جموں، 22 ستمبر (چناب ٹائمز) — جموں میں تین خواتین پر فائرنگ کے واقعے کو ابتدائی طور پر سڑک حادثہ قرار دینے کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ ایک زخمی خاتون کی موت کے بعد تین پولیس اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں جبکہ کرائم برانچ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 21 اگست کو ممبئی کے علاقے ویسٹ مالاد کی 30 سالہ مہجبین عاقل شیخ، ان کی بہن 21 سالہ فاطمہ عاقل اور لدھیانہ کی 28 سالہ جسپریت کور کو دو مردوں نے بارہ برہمنہ کے رنگ روڈ پر حادثے میں زخمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جے کے میڈسٹی اسپتال پہنچایا۔ زخمی خواتین کی حالت بگڑی ہونے کے باعث بیان ریکارڈ نہ کیا جا سکا اور پولیس نے ابتدا میں انکوائری شروع کی۔ بعدازاں انہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں بیٹرا اسپتال اور جی ایم سی جموں شامل ہیں۔
مہجبین عاقل شیخ 29 اگست کو جی ایم سی جموں میں دم توڑ گئیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کی گئی۔ تاہم مزید تفتیش، سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل ریکارڈز سے یہ انکشاف ہوا کہ خواتین کو گولیاں ماری گئی تھیں، جس پر 18 ستمبر کو بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات قتل اور اقدامِ قتل کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی۔
چننی ہمّت تھانے کے ایس ایچ او دیپک پٹھانیا اور دو پروبیشنری سب انسپکٹرز وسیم بھٹی اور روہت شرما کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔ کرائم برانچ نے ایس آئی ٹی بنا کر نہ صرف قتل اور زخمی ہونے کے معاملات کی جانچ شروع کی ہے بلکہ اس بات کی بھی تفتیش ہو رہی ہے کہ معطل افسران نے واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔
زخمی فاطمہ عاقل اور جسپریت کور کو اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ فارنزک ماہرین، کرائم فوٹوگرافرز، تحقیقاتی افسران اور مجسٹریٹ نے سانک کالونی میں سیکٹر اے کے مکان نمبر 157، جہاں متاثرہ خواتین رہائش پذیر تھیں، کا معائنہ کر کے شواہد اکٹھے کیے۔ تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
