اتنے دن کیسے رہے؟
جب کٹ گیا رابطہ، نیا دن، ایک برا خواب سا
جب پڑوسی نے دی آواز، اور چھپکے آیا میرے پاس
کہا، سن میری بات مان، جلدی سے لے آ ضروری سامان
یہ سن کے نکلی میری جان، پھر ہوا یہاں ایک اعلان
دفعہ 144 ہوگئی نافس، لوٹ جاؤ اب گھر واپس
ایک دن میں ہوا سب سنسان، گائب ہوگئے سب حکمران
کیا کیا سہا، کیسے کہیں؟
کہ، اتنے دن کیسے رہے!
جب ہم وطنوں پہ چلی گولیاں، بات کرنے کو نہ رہی بولیاں
کچھ دن کے بعد چلنے لگیں، افواہوں کی ٹولیاں
رابطہ کبکا ٹوٹا تھا، ضابطوں پے اب زور تھا
دوسرے شہر کا کیا کہوں، یہاں اپنا شہر تھا دور سا
ایک پل میں بدل گیا کاروان، جب ہوا وطن کا فیصلہ
توڑ کر اپنے سر کو ہی، دو دھر کرکے الگ کیا
کیا کیا سہا، کیسے کہیں؟
اتنے دن ہم کیسے رہے!
جب رابطہ ہوا کچھ مہینے بعد، ہوئی میری میرے دوست سے بات
وادی کے کسی کونے سے، دھندلی سی سنی ایک آواز
بات رکھنے کی آزادیاں، جب خواب بن کے اڑنے لگیں
دن دن میں گنتا رہا، وہ گنتی اب سال چننے لگی
حال میرا مت پوچھو تم، ہیں ہم غم میں ہی گم
بہت کچھ ہے ابھی کہنے کو، کیا وقت ہے تمہیں پاس رہنے کو؟
کیا کیا سہا، کیسے کہیں؟
اتنے دن کیسے سہے!
ظلم کی انتہا سنو، جہاں ہر گاؤں، ہر ایک شہر، بڑھنے کی فراک میں ہے
میرے شہر کو ویران کر، رتبہ بھی گٹا دیا
یہ یہی نہ ہوا ختم، چلی کئی فیصلے کی آندھیاں
وادیاں تو غصّہ ہی تھیں، غصّہ ہوا وہ شہر بھی
جو جمکے تھا ان کا ساتھ، سنی نہ تھی ایک بھی بات
وہ سر پہ ہاتھ رکھ کے پچھتا رہے، سوچ بدلنے پھر سے جا رہے
کہا خوش ہیں ہم سب ایسے ہی، 60 برس جو غلامی سہی
کیا کیا سہا، کیسے کہیں؟
اتنے دن ہم کیسے رہے!
آواز اٹھائی جس نے بھی، گیا اندر جیل وہ تبھی
یہاں غصہ جو دل میں رہا، وہ دل میں ہی بس گیا ابھی
کہتا بہت کچھ پر کیسے کہوں، اہل خانہ کا ایک لوٹا بیٹا ہوں
سہتا رہا، سہتا رہوں، اس ملک کو اب کیا کہوں
وہ ملک کے صحافیوں نے، جو تھا نہیں وہ سب کہا
جو کہنا تھا، وہ کہا نہیں، کیونکہ انہوں نے سہا نہیں
کیا کیا سہا، کیسے کہیں؟
ایتنے دن ہم کیسے رہیں!
2 جی کے نام پہ، جو دنیا کو دکھائی آزادیاں
اصلیت میں وہ صرف ایک، انکا دکھاوا تھا
جمہوریت کے قانون میں، آزادی تا ورق رہی
وہ ورق تو دیکھا نہیں، کیا کیا فریبیاں سہی
کیا کیا سہا، کیسے کہیں؟
اتنے دن ہم کیسے رہے!
یہ نظم انظر ایوب نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد لکھی تھی۔
یہ مضمون ہماری ویب سائٹ کے پرانے ورژن سے حاصل کیا گیا ہے: Archive.org
