نئی دہلی – افغانستان کے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ لڑکے نے اتوار کے روز دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حکام کو اس وقت حیران کر دیا جب یہ انکشاف ہوا کہ وہ کابل سے آنے والی ایک پرواز میں طیارے کے لینڈنگ گیر کے حصے میں چھپ کر زندہ پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق کام ایئر کی پرواز RQ-4401 صبح تقریباً 11 بج کر 10 منٹ پر دہلی اتری۔ لینڈنگ کے بعد ایئرلائن کے چیف سکیورٹی آفیسر نے رن وے کے قریب ایک کم عمر لڑکے کو چلتے ہوئے دیکھا اور فوراً ایئرپورٹ کے سکیورٹی آپریشنز کنٹرول سینٹر کو اطلاع دی۔ بعد ازاں سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (CISF) نے لڑکے کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لڑکے نے کابل ایئرپورٹ میں چپکے سے داخل ہو کر طیارے کے پچھلے حصے کے لینڈنگ گیر میں پناہ لی۔ اس طریقۂ سفر کو "وہیل-ویل اسٹو اوے” کہا جاتا ہے جس میں مسافر طیارے کے نچلے حصے میں چھپ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل نہایت خطرناک ہے کیونکہ بلندی پر درجہ حرارت انتہائی کم اور آکسیجن کی مقدار محدود ہوتی ہے، جو اکثر موت کا سبب بن جاتی ہے۔
تاہم یہ لڑکا خوش قسمتی سے زندہ بچ گیا اور اسی روز شام چار بجے کے قریب ایک اور پرواز کے ذریعے کابل واپس بھیج دیا گیا۔
طیارے کی مکمل تلاشی کے دوران لینڈنگ گیر کے حصے سے ایک سرخ رنگ کا اسپیکر بھی ملا جو مبینہ طور پر لڑکے کی ملکیت تھا۔ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد جہاز کو دوبارہ آپریشن کے لیے استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کے واقعات دنیا کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ جنوری 2024 میں ڈومینیکن ریپبلک سے فلوریڈا جانے والی ایک پرواز میں دو افراد لینڈنگ گیر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ اسی طرح دسمبر 2023 میں الجزائر کے ایک نوجوان کو اوران سے پیرس پہنچنے کے بعد شدید سردی کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
