لےہ، لداخ، 24 ستمبر — لداخ میں ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتوں کے مطالبے پر بدھ کو احتجاج اچانک پرتشدد رخ اختیار کر گیا۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، مقامی بی جے پی دفتر کو آگ لگادی اور ایک پولیس وین کو بھی جلا ڈالا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لداخ میں جاری اس تحریک نے تشدد کی شکل اختیار کی ہے۔
سینکڑوں مظاہرین، جن میں طلبہ بھی شامل تھے، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی 15 روزہ بھوک ہڑتال کی حمایت میں شہر میں ریلی کی صورت میں نکلے۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔ لیہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) کی قیادت میں یہ احتجاج بی جے پی ہیڈکوارٹر پہنچا جہاں آگ زنی سے عمارت سے دھواں اٹھنے لگا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا، اس دوران ایک سی آر پی ایف گاڑی کو بھی آگ لگادی گئی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 6 اکتوبر کو لداخ نمائندوں اور مرکزی وزارتِ داخلہ کے درمیان مذاکرات طے ہیں۔ مذاکرات کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ مظاہرین کے مطالبات میں مکمل ریاستی درجہ، چھٹے شیڈول کے تحت قبائلی حقوق، دو لوک سبھا نشستیں اور مقامی برادریوں کے لیے درج فہرست قبیلہ (شیڈولڈ ٹرائب) کا درجہ شامل ہیں۔ وانگچک نے اس ہنگامہ آرائی کے دوران اپنی بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے عوام سے سکون و ضبط کی اپیل کی۔
خیال رہے کہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد لداخ کو ایک الگ یونین ٹیریٹری بنایا گیا تھا، جس کے بعد سے براہِ راست مرکزی حکومت کے تحت انتظامی امور چل رہے ہیں۔ لیہ کی بدھ مت برادری اور کرگل کی مسلم برادری اس مطالبے پر متحد ہیں اور لیہ اپیکس باڈی و کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کر رہی ہیں۔
2023 میں اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی، تاہم کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہو سکی۔ مارچ میں وزیرِ داخلہ امت شاہ کے ساتھ ملاقات میں بھی ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے ہنگامہ آرائی کے بعد دفعہ 163 نافذ کرکے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی اور اضافی فورسز تعینات کر دیں۔ دوپہر تک صورتِ حال پر قابو پالیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ اکتوبر کے مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
