نیویارک، 25 ستمبر (چناب ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر آٹھ عرب و مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ دعویٰ چھ مختلف ذرائع نے کیا جنہیں گفتگو کی تفصیلات معلوم ہیں۔
یہ یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے رہنماؤں کو ایک "وائٹ پیپر” بھی پیش کیا جس میں جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے کے خدوخال شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مغربی کنارے پر قبضہ کرنے سے روکنے پر "سخت مؤقف” اپنایا، تاہم جنگ بندی فی الحال دور دکھائی دیتی ہے۔
یہ ملاقات، جسے ٹرمپ نے اپنے دن کی "سب سے اہم” ملاقات قرار دیا، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے ساتھ ہوئی۔ ٹرمپ نے بعد میں صحافیوں سے کہا: "مجھے لگتا ہے ہم غزہ پر کچھ طے کر سکتے ہیں۔ یہ بہت اچھی ملاقات تھی اور سب رہنما بہترین تھے۔” ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسے "انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز” قرار دیا۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کا انضمام کیا تو ابراہام معاہدے منہدم ہو سکتے ہیں۔ یہ وہی معاہدے ہیں جنہیں ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ، فرانس سمیت کئی ممالک کے حالیہ فیصلے میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے بعد اسرائیلی حکام، خصوصاً وزیر خزانہ بیتزالل سموٹریچ، مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے مطالبے پر زور دے رہے ہیں۔
جولائی میں عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آبادکاروں کی بستیاں خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں نے مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور سات ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا ہے۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 65 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس خبر پر تاحال وائٹ ہاؤس نے کوئی ردعمل نہیں دیا جبکہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے بھی کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
