رائے پور، 25 ستمبر ( چناب ٹائمز) — چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے 83 سالہ جگیشور پرساد اوادھیہ کو 9 ستمبر کو رشوت ستانی کے ایک جھوٹے مقدمے سے بری کر دیا۔ یہ مقدمہ 1986 میں درج ہوا تھا اور اس نے تقریباً چار دہائیوں تک اوادھیہ کی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ عدالت نے 2004 کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے شواہد کی کمی اور گواہوں کے بیانات میں تضادات کی بنیاد پر انہیں شک کا فائدہ دیا۔
اوادھیہ اُس وقت مدھیہ پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے رائے پور دفتر میں بل اسسٹنٹ تھے۔ الزام تھا کہ انہوں نے ساتھی ملازم اشوک کمار ورما سے بقایا تنخواہ نکالنے کے لیے 100 روپے رشوت مانگی اور وصول کی۔ اگلے روز لوکایکتہ نے جال بچھایا اور انہیں دو نوٹوں کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم اوادھیہ نے ہمیشہ کہا کہ یہ سازش تھی کیونکہ انہوں نے اسی دن رشوت کی ایک چھوٹی رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔
2004 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی، لیکن اپیل کے دوران وہ ضمانت پر رہے۔ ہائی کورٹ کے جسٹس بیبھو دتہ گرو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صرف نوٹ برآمد ہونا رشوت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، جب تک طلب اور رضاکارانہ قبولیت ثابت نہ ہو۔
اوادھیہ کو 1988 سے 1994 تک معطل رکھا گیا، بعد میں انہیں ریوا بھیج دیا گیا جہاں آدھی تنخواہ پر گزارہ کرنا پڑا۔ بچوں کی تعلیم رک گئی، بیوی ذہنی دباؤ میں چل بسی اور پنشن بھی روک دی گئی۔ بڑھاپے میں وہ چوکیدار اور چھوٹے موٹے کام کر کے گزر بسر کرتے رہے۔ "میں ایمانداری کے لیے جانا جاتا تھا، مگر سب کچھ برباد ہو گیا،” اوادھیہ نے حالیہ گفتگو میں کہا۔
اب وہ پنشن، بقایا جات اور گھر کی مرمت کے لیے مالی مدد کے خواہاں ہیں لیکن مزید قانونی جنگ لڑنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے فیصلے کو "انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار” کی مثال قرار دیتے ہوئے اعلیٰ شخصیات کے مقدمات میں تیزی سے فیصلوں کا تقابل کیا۔ حکومت کی جانب سے معاوضے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
