نئی دہلی، 25 ستمبر (چناب ٹائمز) — دہلی کی ایک ضلعی عدالت نے سینئر صحافی پرنجوئے گہا ٹھاکرتا کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اڈانی گروپ پر رپورٹنگ سے متعلق یک طرفہ پابندی (گیگ آرڈر) کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ معاملے کی دوبارہ سماعت 26 ستمبر کو کی جائے گی اور اس وقت تک یہ حکم نافذ العمل نہیں ہوگا۔
روہنی کورٹس کے ڈسٹرکٹ جج سنیل چوہدری نے شمال مغربی دہلی کے سینئر سول جج کو ہدایت دی کہ وہ ٹھاکرتا کی اپیل اور دیگر ملزمان کے دلائل 26 ستمبر دوپہر 2 بجے سنیں۔ عدالت نے کہا کہ عبوری حکم امتناع دیتے وقت دیوانی ضابطہ کی دفعات (آرڈر 39، رولز 1 اور 2) کے اصولوں کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ کیس اڈانی انٹرپرائزز کے دائر کردہ ہتکِ عزت مقدمے سے جڑا ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ٹھاکرتا اور دیگر نے مختلف ویب سائٹس پر اڈانی گروپ کے خلاف "بغیر تصدیق کے، بدنام کرنے والا مواد” شائع کیا، جس سے کمپنی کی ساکھ اور "بھارت کی توانائی سلامتی” متاثر ہوئی۔ چھ ستمبر کو ایک سول جج نے یک طرفہ حکم دے کر تمام مواد ہٹانے اور مزید اشاعت روکنے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد یوٹیوب اور سرکاری اداروں کی جانب سے ہٹانے کے نوٹس بھیجے گئے۔
ٹھاکرتا کی نمائندگی ایڈووکیٹس اپار گپتا، اندوموگی سی اور نمن کمار نے کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکم ملنے کے بعد زبردستی مضامین ہٹائے گئے، جس سے آزادیِ صحافت پر کاری ضرب لگی۔ اڈانی کی جانب سے سینئر وکیل جَگدیپ کے شرما نے دلیل دی کہ اصل حکم کو میرٹ پر ختم نہیں کیا گیا اور صحافی کو سول جج کے روبرو حاضر ہونا چاہیے، تاہم 26 ستمبر تک کوئی جابرانہ اقدام نہیں ہوگا۔
یہ ریلیف چار دیگر صحافیوں روی نائر، ابیر داسگپتا، آیَس کانت داس اور آیُش جوشی کو بھی دیا جا چکا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ زیرِ بحث مواد کئی برسوں سے عوامی سطح پر دستیاب تھا، اس لیے اسے بغیر سنے ہٹانا مناسب نہیں۔
ایڈیٹرز گلڈ نے ابتدائی حکم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے احکامات آزادیِ اظہار پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اڈانی انٹرپرائزز یا ٹرائل کورٹ کی جانب سے تازہ ردعمل رپورٹنگ کے وقت تک دستیاب نہیں تھا۔
