لیہہ – ریاستی درجہ اور آئینی تحفظ کے مطالبے پر لداخ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دو دن بعد معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ گرفتاری جمعہ کے روز عمل میں آئی، جس کی تصدیق حکومتی ذرائع نے پی ٹی آئی کو کی ہے۔
چناب ٹائمز کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس ڈی سنگھ جموال کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم نے وانگچک کو گرفتار کیا۔ ان کی این جی او "اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ” (سی مول) کا غیر ملکی چندے کا لائسنس چند روز قبل مبینہ بے ضابطگیوں پر منسوخ کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی۔
پس منظر
24 ستمبر کو لیہہ میں ریاستی درجہ کے حق میں نکالی گئی بڑی ریلی اچانک پرتشدد ہو گئی، جس کے نتیجے میں چار افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے بعض سرکاری املاک اور حکمران جماعت بی جے پی کے دفتر کو نقصان پہنچایا، جس پر انتظامیہ نے بھارتیہ نگریِک سرکشا سنہیتا 2023 کی دفعہ 163 کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی۔
تنظیموں کا مؤقف
احتجاج کی قیادت کرنے والی اپیکس باڈی لیہہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کچھ نوجوانوں کی انفرادی کارروائی تھی جو قیادت کی ہدایات کے خلاف تھی۔ باڈی نے واضح کیا کہ ان کی تحریک پرامن ہے اور سونم وانگچک پر تشدد بھڑکانے یا غیر ملکی مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
حکومتی ردعمل
مرکزی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ لداخ میں پیدا ہونے والی بدامنی میں بعض "سیاسی طور پر محرک عناصر” اور "اشتعال انگیز بیانات” نے کردار ادا کیا۔ وزارت نے بتایا کہ حکومت اپیکس باڈی لیہہ اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ ہائی پاورڈ کمیٹی کے ذریعے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور بعض عناصر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 24 ستمبر کی شام تک صورتحال قابو میں آ گئی تھی اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ پرانے یا گمراہ کن ویڈیوز نہ پھیلائیں۔
ہائی پاورڈ کمیٹی کا اگلا اجلاس 6 اکتوبر کو منعقد ہوگا جبکہ مزید بات چیت ستمبر کے آخر میں طے ہے۔
