دبئی، 28 ستمبر — بھارت اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ 2025 کا فائنل دبئی میں کھیلا جانا ہے لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سینیئر عہدیدار اس بار میدان سے غائب رہیں گے۔ یہ فیصلہ حالیہ پاہلگام حملوں اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی سفارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا دینک جاگرن کے مطابق دبئی پہنچنے والا کوئی بی سی سی آئی عہدیدار اب تک نظر نہیں آیا، اور فائنل کے دوران بھی کسی کی موجودگی متوقع نہیں ہے۔ اس رویے کو مبصرین نے "خاموش بائیکاٹ” قرار دیا ہے، جو اس سے قبل ٹورنامنٹ کے گروپ اور سپر فور مرحلوں میں بھی دیکھا گیا تھا۔
بورڈ کے سیکریٹری دیوجیت سائیکیا، آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل، خزانچی پرابھتیج بھاٹیا اور جوائنٹ سیکریٹری روہن دیسائی دبئی نہیں جا رہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق: "ہم نے حکومت کی اجازت سے ٹیم کو کھیلنے دیا ہے لیکن اگر ہم کیمروں پر دکھائی دیے تو ہمارے خلاف ماحول بنایا جائے گا۔”
البتہ قائم مقام صدر راجیو شکلہ، جو ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے عہدیدار بھی ہیں، ممکنہ طور پر فائنل میں شریک ہوں لیکن ان کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ بی سی سی آئی سیکریٹری سائیکیا نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پر حکومت کی ہدایات پر ہی عمل کیا جاتا ہے، اور مکمل بائیکاٹ کی صورت میں آئی سی سی یا اے سی سی کی طرف سے پابندی کا خطرہ ہے۔
یہ صورتحال اس سال کے اوائل میں دبئی میں ہونے والے چیمپئنز ٹرافی میچ سے مختلف ہے، جہاں بی سی سی آئی کے کئی اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ اب جبکہ سوشل میڈیا پر #BoycottAsiaCup جیسے ٹرینڈ زور پکڑ چکے ہیں، شائقین اور سابق کھلاڑی حکومت اور بورڈ پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
میچ کے حوالے سے بھارت فیورٹ سمجھا جا رہا ہے، جس میں شبھمن گل، سوریا کمار یادو، جسپریت بمراہ اور کلدیپ یادو جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔ دوسری طرف پاکستان، نئے کپتان سلمان علی آغا کی قیادت میں سیم ایوب، حسن نواز اور اسپنرز ابرار احمد و محمد نواز پر انحصار کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹکٹوں کی فروخت اور میچ کے گرد جوش پہلے کے مقابلے میں کم ہے، لیکن فائنل دونوں ٹیموں کے لیے کرکٹ اور سیاست کے درمیان توازن کا امتحان ثابت ہوگا۔
