مظفرآباد، 29 ستمبر — پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پیر کے روز حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جان سے گئے جبکہ 22 سے زائد زخمی ہو گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر پہیہ جام ہڑتال اور مظاہرے جاری تھے۔
مظفرآباد، کوٹلی اور میرپور سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر پیش کر رکھا ہے جس میں مقامی وسائل پر حق، اقتصادی ریلیف، سیاسی خودمختاری اور گورننس میں اصلاحات کا مطالبہ شامل ہے۔ اہم مطالبات میں مراعات یافتہ طبقے کے اختیارات کا خاتمہ، پاکستانی پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں کی منسوخی، پن بجلی کے رائلٹی کی ادائیگی، گلگت بلتستان طرز پر گندم پر سبسڈی اور منگلا ڈیم کے نرخوں کے مطابق بجلی کے ٹیرف کا تعین شامل ہیں۔
مظفرآباد میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب سکیورٹی فورسز اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کی گئی، جبکہ مظاہرین نے جائے وقوعہ سے ملنے والے کارتوس میڈیا کو دکھائے۔ شہر میں مارکیٹیں، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند رہا، اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات رہی۔
کوٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک مظاہرین نے کہا: "حکومتی نمائندے دنوں تک اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے مگر آج عوام متحد ہیں۔ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔”
دوسری جانب میرپور میں ریلیوں کے دوران بھی کمیٹی کے چارٹر کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر نے ان مظاہروں کی بھرپور آن لائن حمایت کرتے ہوئے حکومت پر جبر کے الزامات لگائے۔
تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے فائرنگ اور ہلاکتوں پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم تازہ واقعات نے خطے میں عوامی بےچینی اور حکومت سے مایوسی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
