دارجلنگ، 5 اکتوبر — شمالی مغربی بنگال کے دارجلنگ ہلز میں مسلسل شدید بارش کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈز نے تباہی مچائی، کم از کم 20 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے۔ مِرِک اور کورسیونگ سمیت دیگر علاقوں میں گھر بہہ گئے، پل گر گئے اور دور دراز کی بستیاں رابطے سے کٹ گئیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں، جبکہ انڈین میٹیرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے مزید لینڈ سلائیڈز کے خطرے کے پیشِ نظر 6 اکتوبر تک ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
شدید بارش کا آغاز 4 اکتوبر کی شام 8 بجے کے قریب ہوا، جب 24 گھنٹوں میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش نے سب ہمالیہ کی ڈھلانوں کو پانی سے بھر دیا۔ سب سے زیادہ متاثرہ مِرِک سب ڈویژن میں 11 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جہاں مِرِک-سکھیاپوکھری روڈ کے ساتھ مکانات اور گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔ دارجلنگ شہر میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جسبیر گاؤں کے ایک گھر میں مٹی کے دھنسنے کے بعد دو افراد لاپتہ ہوئے۔ دُڈیا آئرن پل، جو مِرِک اور کورسیونگ کو جوڑتا ہے، بھی گر گیا، کئی گاڑیاں پھنس گئیں اور سیاح متاثر ہوئے۔
شمالی بنگال کے ترقیاتی وزیر ادیان گوہا نے صورتحال کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 20 بتائی۔ ریسکیو آپریشنز میں پولیس، ڈیزاسٹر ٹیمیں اور مقامی رضاکار شامل ہیں، جنہوں نے کورسیونگ میں اتوار کی صبح تک سات لاشیں نکالیں۔ پولیس کے اضافی سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک رائے نے ضلع میں دو مزید ہلاکتیں تصدیق کیں۔ 50 سے زائد زخمیوں کو مقامی اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے متاثرہ افراد کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے اور 6 اکتوبر کو شمالی بنگال کا دورہ کر کے نقصان کا جائزہ لیں گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "دارجلنگ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈز کی صورتحال پر حکام گہری نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔” وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا، "دارجلنگ میں پل کے حادثے میں جانی نقصان پر گہرا دکھ ہوا۔ میں لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔” صدر دروپدی مرمو نے بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیو آپریشنز کی کامیابی اور زخمیوں کی صحتیابی کی دعائیں کیں۔
آئی ایم ڈی نے سب ہمالیائی علاقوں بشمول دارجلنگ اور کلیمپورگ میں 6 اکتوبر تک شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے، اور خطرہ ظاہر کیا ہے کہ زمین مکمل طور پر پانی میں بھیگی ہوئی ہے، جس سے مزید سلائیڈز اور سڑکیں بند ہو سکتی ہیں۔ دارجلنگ میں کچھ حصوں میں بارش 150 ملی میٹر سے تجاوز کر گئی، جس سے تِیسٹا دریا کے علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور 20 سے زائد دیہاتوں کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ قریبی سکم میں بھی سڑکیں بند اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، تاہم ہلاکتیں نہیں آئیں۔
دارجلنگ سب ڈویژنل آفیسر رچرڈ لپچا کے مطابق ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور این ڈی آر ایف ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے رہائشیوں سے سفر سے گریز کرنے اور گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ سیاحتی مقامات جیسے ٹائیگر ہِل بھی بند رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سانحہ ہمالیہ میں مون سون کے دوران آنے والی قدرتی آفات کا حصہ ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی نے شدت پیدا کی ہے۔ گزشتہ سال سکم میں ہونے والی بارشوں میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور تِیسٹا III ڈیم بھی ٹوٹا تھا۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، کھانے پینے اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، اور ہیلکاپٹرز ایوی کیشن کے لیے تیار ہیں۔ ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ مزید علاقوں تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
