ڈوڈہ، 18 اکتوبر 2025 // جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے ڈوڈہ ضلع کے سیاسی کارکن محمد رفیع عرف پنکا کے خلاف عائد جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا حکم نامہ منسوخ کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم جاری کیا ہے، اور ریمارکس دیئے کہ انتظامیہ نے نہ صرف بنیادی آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا بلکہ ’’غیر واضح اور بے بنیاد مواد‘‘ کی آڑ میں ایک شہری کی آزادی کو سلب کیا۔ فیصلہ 17 اکتوبر کو سنایا گیا جسے اگلے روز اپ لوڈ کیا گیا۔
اس معاملے میں پنکا کی اہلیہ پروینہ بیگم نے ہیبیس کارپس پٹیشن (ایچ سی پی 66/2025) کے ذریعے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے 10 اپریل 2025 کے حراستی حکم کو چیلنج کیا تھا۔ پنکا اپریل سے ضلع جیل اُدھمپور میں مقید تھا۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ حراست کا حکم ’’بُنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی‘‘ ہے کیونکہ نہ حراستی اسناد کو اس کی سمجھنے والی زبان میں فراہم کیا گیا اور نہ ہی نمائندگی کے حق کو بامعنی طور پر ممکن بنایا گیا۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ انتظامیہ نے پنکا کے خلاف دس برسوں پر مشتمل پرانے معاملات کا حوالہ دیا، جن میں سے تین مقدمات پہلے ہی بریت یا جرمانے کی حد تک طے ہوچکے تھے، اس لئے انہیں موجودہ خطرے کی بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مزید برآں، نظر بندی کا ڈوزیئر محض عمومی الزامات پر مبنی تھا جس میں تاریخ، مقام یا مخصوص عمل کی کوئی وضاحت شامل نہیں تھی — جو کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے برخلاف ہے جہاں ’’واضح، تصدیق پذیر اور مخصوص‘‘ بنیادوں کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔
جسٹس وِنود چیترجی کول نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ جب نظربندی کے کاغذات صرف انگریزی میں ہوں اور زیرِ حراست شخص اُنہیں سمجھنے سے قاصر ہو، تو آئین کے آرٹیکل 22(5) کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ فرد کو اپنی دفاعی نمائندگی مؤثر انداز میں داخل کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ضلع مجسٹریٹ نے نمایندگی مسترد کرکے ’’غیر مجاز‘‘ قدم اٹھایا کیونکہ منظوری کے بعد نظرِ ثانی کا اختیار صرف حکومت کے پاس رہتا ہے، نہ کہ اصل حراستی اتھارٹی کے پاس۔
فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پی ایس اے جیسا سخت قانون تادیبی سزا نہیں بلکہ ’’احتیاطی اقدام‘‘ ہے، لہٰذا اسے صرف تبھی استعمال کیا جاسکتا ہے جب مواد واضح، مخصوص اور آئینی ضمانتوں کے عین مطابق ہو۔ مبہم اور غیر مصدقہ الزامات کے سہارے طویل حراست ’’قانونی طور پر ناقابلِ برداشت‘‘ ہے۔
عدالت نے پنکا کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ ’’محض عمومی بیانیہ یا پولیس ڈوزیئر میں درج تاثر‘‘ کسی شہری کی آزادی چھیننے کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ فیصلہ اس تناظر میں ایک اہم نظیری حیثیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ وادیٔ چناب میں گزشتہ برسوں کے دوران سیاسی کارکنوں اور مقامی سطح پر فعال افراد کے خلاف پی ایس اے کے بڑھتے استعمال پر سنگین سوالات اٹھ رہے تھے۔
عدالت نے ریکارڈ کی واپسی کی ہدایت کے ساتھ قرار دیا کہ اگر دیگر کسی قابلِ سزا معاملے میں گرفتاری درکار نہ ہو تو پنکا کو فوراً رہا کیا جائے۔
