سرینگر — جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے سے تعلق رکھنے والا میوہ فروش، جس نے اپنے بیٹے اور بھائی کی گرفتاری کے بعد خودسوزی کی تھی، پیر کی رات سرینگر میں دم توڑ بیٹھا۔
واقعات کے مطابق 50 برس کے لگ بھگ عمر والے بلال احمد وانی، ساکن وانپوہ اننت ناگ، نے اتوار کی صبح اپنے گھر میں خود کو آگ لگا لی تھی۔ انہیں شدید جھلسنے کے بعد ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں سے جانبر نہ ہو سکے۔
چناب ٹائمز کو دی گئی تفصیلات کے مطابق بلال کے بیٹے جاسم احمد وانی عرف دانش اور بھائی نویل احمد وانی کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے 10 نومبر کو دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کی تفتیش کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ اس دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
منگل کو جاری بیان میں این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ جاسم احمد وانی مبینہ طور پر مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر النبی کا “اہم شریکِ سازش” تھا۔ ایجنسی کے مطابق تفتیش میں یہ سامنے آیا کہ جاسم مبینہ طور پر ڈرون کی تکنیکی تبدیلی اور دیسی راکٹ بنانے کی کوششوں میں شامل تھا، جنہیں حملوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
ادھر خاندان کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ بلال کی بھابھی نسیمہ اختر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گھر کا کوئی فرد کسی بھی عسکری سرگرمی سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ ان کے مطابق خاندان صرف دو دیگر گرفتار شدہ افراد، ڈاکٹر عادل ریٹر اور ڈاکٹر مزافر احمد ریٹر، کو جانتا تھا کیونکہ وہ پڑوسی اور پڑھے لکھے لوگ تھے۔
انہوں نے کہا، “اگر ایک شخص سے غلطی ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے لوگ مجرم ہیں۔ یہاں معصوموں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔”
بلال احمد وانی وہ پانچواں شہری ہیں جو یا تو لال قلعہ دھماکے میں مارا گیا یا بعد کی تفتیشی کارروائیوں کے دوران جان سے گیا۔ اس سے پہلے اس سلسلے میں چھ کشمیری پولیس اہلکار اور فرانزک ملازمین بھی مختلف واقعات میں لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔
