معلوماتی ویب سائٹ گروکیپیڈیا کے ابتدائی تجرباتی مرحلے نے اپنی ایک نمایاں خامی کی درستی کی کوشش کو بھی قبول نہیں کیا۔ صارف نے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ ’’وادی چناب‘‘ کے عنوان والے صفحے پر دراصل ’’چناب دریا‘‘ کا تفصیلی مضمون موجود ہے، مگر پلیٹ فارم نے اس ضروری ترمیم کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ تبدیلی “حد سے زیادہ وسیع” ہے۔
گروکیپیڈیا پر وادی چناب کے نام سے موجود صفحہ ابتداً ’’چناب دریا‘‘ کی سرخی سے شروع ہوتا ہے اور ہزاروں الفاظ پر محیط مواد دریا کے بہاؤ، آبی منصوبوں، معاہدات اور جغرافیائی خصوصیات پر مشتمل ہے—جبکہ یہی تمام تفصیلات پہلے ہی چناب دریا کے مستقل صفحے پر موجود ہیں۔
ادھر اصل ’’وادی چناب‘‘—جس میں جموں و کشمیر کے اضلاع ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن شامل ہیں—صفحے میں سرسری طور پر ہی جگہ پاتی ہے۔
ایک صارف نے ایڈیٹ فیچر کے ذریعہ نشاندہی کی کہ صفحہ اپنے عنوان کے مطابق نئے سرے سے لکھا جائے تاکہ اس میں وادی کی تاریخ، آبادی، ثقافتی پہلو اور انتظامی ڈھانچے کو شامل کیا جا سکے۔ تاہم ویب سائٹ کے خودکار نظام نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ترمیم “مضمون کی موجودہ ساخت کو بری طرح متاثر کرتی ہے” اور بیٹا مرحلے میں اس درجے کی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ واقعہ اسی روز رونما ہوا جب ایلن مسک نے اعلان کیا کہ گروکیپیڈیا کا نیا ورژن اور ’’تجویزی ترامیم‘‘ کا بیٹا فیچر صارفین کے لیے فعال کر دیا گیا ہے۔ اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی ایک ایسی غلطی کو بھی درست نہ ہونے دیا گیا جسے گروک خود ایک ہفتہ قبل عوامی طور پر تسلیم کر چکا تھا۔
گزشتہ دنوں گروک نے ایک آن لائن گفتگو میں اعتراف کیا تھا کہ ’’وادی چناب‘‘ کے صفحے پر دریا سے متعلق غیر ضروری طوالت اور عنوان کا عدم مطابقت موجود ہے، اور اس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ویب سائٹ جلد ہی صفحے کو ازسرِنو ترتیب دے گی تاکہ وادی کے اضلاع، پہاڑی اور گوجر ثقافت اور ترقیاتی منصوبوں کو نمایاں کیا جا سکے۔
تاہم وہ وعدہ شدہ تازہ تحریر ابھی سامنے نہیں آئی۔
علاقائی محققین اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس امر کا آزمائشی موقع ہے کہ آیا گروکیپیڈیا کم معروف خطّوں کی درست نمائندگی کر پائے گا یا نہیں۔ ان کے مطابق، فی الحال پلیٹ فارم کا الگورتھم بڑے موضوعات کو ترجیح دے رہا ہے، خواہ اس کے نتیجے میں عنوان اور متن کے درمیان واضح بے ربطی ہی کیوں نہ پیدا ہو۔
فی الوقت ’’وادی چناب‘‘ تلاش کرنے والے صارفین کو اب بھی بارہ ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل وہی مضمون ملتا ہے جو اصل میں دریا کا تفصیلی خاکہ ہے، وادی کی شناخت نہیں۔
