زرعی نقصان، بارشوں سے تباہی اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد مزدوری کی بڑھتی ضرورت کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی قریبی دو ہزار پنچایتوں میں منریگا کے کاموں کی مدت بڑھا دی ہے۔ اب ان علاقوں میں ہر گھرانہ ایک سال میں مجموعی طور پر 150 دن تک روزگار حاصل کرسکے گا۔
وزارتِ دیہی ترقی نے جمعہ کو باضابطہ طور پر اس فیصلے کی اطلاع جموں و کشمیر کے محکمہ دیہی ترقی کو بھیجی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اضافی پچاس دن اُس فہرست کے لیے منظور کیے گئے ہیں جنہیں انتظامیہ نے گزشتہ ماہ سیلاب، بادل پھٹنے اور مٹی کھسکنے کے واقعات سے متاثرہ علاقے قرار دیا تھا۔
مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان اضافی دنوں میں مزدوروں کی اجرت کا پورا خرچ دہلی برداشت کرے گا، جبکہ تعمیراتی مواد پر آنے والے اخراجات کا بڑا حصہ بھی مرکز سے ہی فراہم ہوگا۔ حکام کے مطابق منریگا کے آن لائن نظام میں تبدیلی کی جا رہی ہے تاکہ متعلقہ پنچایتیں 150 دن کا اندراج کر سکیں۔
سرکاری خط میں ریاستی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں منظور شدہ ترقیاتی کاموں کی نئی فہرست تیار کی جائے، کیونکہ زرعی کام ختم ہونے کے بعد دیہی مزدوروں کا دباؤ عوامی منصوبوں پر منتقل ہو رہا ہے۔ اگر ضرورت پڑے تو محنتانے کا سالانہ بجٹ بھی دوبارہ جمع کروایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال آفات سے متاثرہ خطوں میں مزدوری کی طلب معمول سے کئی گنا بڑھ گئی ہے اور مرکزی منظوری سے ان علاقوں کی دیہی معیشت کو اہم ریلیف ملے گا۔
