سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک فیصلہ کرتے ہوئے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ سعودی حکام نے یہ پیغام واشنگٹن اور تہران دونوں کو پہنچا دیا ہے، جس کا مقصد خطے کو کسی بڑی جنگ اور تباہی سے محفوظ رکھنا ہے۔
دی چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب نے امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ اور ایرانی حکام کو براہِ راست اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ سعودی فوج کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ریاض نے تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ’’سعودی عرب ایران کے خلاف کی جانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اس مقصد کے لیے اس کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال ہوں گی۔‘‘
امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے بھی سعودی حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ ریاض نے واشنگٹن کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تنازعے سے الگ رہے گا اور امریکی افواج کو ایران پر حملوں کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ تیل کی عالمی منڈیوں میں ممکنہ خلل اور وسیع تر علاقائی عدم استحکام کے خوف کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں اور کریک ڈاؤن پر امریکہ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کو سزائے موت دینے جیسے اقدامات کیے گئے تو فوجی ردعمل بھی ممکن ہے۔ جواب میں تہران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا، جس سے خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سعودی عرب کا یہ موقف دیگر خلیجی ریاستوں بشمول قطر اور عمان کی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ حملوں سے گریز کرے۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ (Regime Change) کی کوئی بھی کوشش خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی سپلائی لائن متاثر ہو سکتی ہے
اگرچہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ قریبی فوجی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے اور خلیج میں امریکی اثاثوں کی میزبانی بھی کرتا ہے، لیکن اس کا موجودہ موقف خطے کی بدلتی ہوئی حرکیات اور ’ڈی ایسکلیشن‘ (تناؤ میں کمی) کی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ سفارتی روابط بھی بحال کیے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی بادشاہتوں کی جانب سے اس طرح کی یقین دہانیوں کا مقصد ایک وسیع تر جنگ کو روکنا ہے جو ان کے انرجی انفراسٹرکچر اور اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکہ نے اگرچہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، لیکن خطے کی مکمل حمایت اور فضائی حدود کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف کوئی بھی بڑا آپریشن لاجسٹک اعتبار سے انتہائی مشکل ہوگا۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کا یہ انکار خلیجی ریاستوں کے اس مشکل توازن کو ظاہر کرتا ہے جو وہ اپنے دیرینہ اتحادیوں (امریکہ) اور پڑوسی ملک (ایران) کے درمیان براہ راست تصادم سے بچنے کے لیے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
