امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر پر ایک عوامی اجلاس کے دوران حملے کی کوشش کی گئی ہے، جس نے امریکی سیاست میں جاری کشیدگی اور عدم برداشت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ایک نامعلوم شخص نے الہان عمر پر انجکشن نما آلے سے نامعلوم مائع کا چھڑکاؤ کیا، تاہم سکیورٹی عملے نے فوراً حرکت میں آتے ہوئے حملہ آور کو دبوچ لیا اور کانگریس وومن محفوظ رہیں۔
’دی چناب ٹائمز‘ کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ 27 جنوری 2026 کو منیاپولس کے ٹاؤن ہال میں پیش آیا۔ الہان عمر اپنے حلقے کے عوام سے خطاب کر رہی تھیں اور امیگریشن کے سخت قوانین کے خلاف بات کرتے ہوئے انہوں نے ’امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ‘ (ICE) کے خاتمے اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔ عین اسی وقت اگلی قطار میں بیٹھا ایک شخص تیزی سے ڈائس کی طرف لپکا اور ان پر ایک مشتبہ مواد اسپرے کر دیا۔
منیاپولس پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تھرڈ ڈگری حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے ہینپن کاؤنٹی جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اسپرے کیے گئے مواد کی نوعیت فی الحال نامعلوم ہے، تاہم عینی شاہدین نے وہاں ایک تیز بو محسوس کی۔ خوش قسمتی سے الہان عمر کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا اور انہوں نے کمال حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ تقریب کو جاری بھی رکھا۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ میں امیگریشن کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ حال ہی میں وفاقی ایجنٹس کے ہاتھوں الیکس پریٹی اور رینی نکول گڈ کی ہلاکتوں کے بعد جڑواں شہروں (Twin Cities) میں شدید احتجاج جاری ہے۔ الہان عمر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی سخت ناقد رہی ہیں اور اسی روز سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں ایک ریلی کے دوران الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تارکین وطن کی وفاداری پر سوال اٹھائے تھے۔
صومالی نژاد پہلی امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ خیریت سے ہیں اور اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں ایک سروائیور (زندہ بچ جانے والی) ہوں اور بدمعاشوں کو جیتنے کی اجازت نہیں دوں گی۔‘‘
امریکی کیپیٹل پولیس اور منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ ریپبلکن رکن نینسی میس نے بھی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سیاسی مبصرین اس واقعے کو امریکہ میں منتخب نمائندوں کے خلاف بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد اور نفرت انگیز رویوں کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔ حملے کے باوجود الہان عمر نے تقریباً 30 منٹ تک عوام کے سوالات کے جوابات دیے، جس پر ان کے حامیوں نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
