بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں انسانیت اور بھائی چارے کی مثال قائم کرنے والے ایک جم ٹرینر کو پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ ایک بزرگ مسلمان دکاندار کو ہجوم کے غیظ و غضب سے بچانے والے مقامی نوجوان دیپک کمار کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے پر سول سوسائٹی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات اور پولیس رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ 26 جنوری (یومِ جمہوریہ) کو پیش آیا۔ دائیں بازو کی تنظیموں (بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد) سے وابستہ ایک گروپ نے وکیل احمد نامی بزرگ دکاندار کو گھیرا اور ان کی دکان ’بابا اسکول ڈریس‘ کے نام پر اعتراض کیا۔ ہجوم کا مطالبہ تھا کہ دکان کے نام سے ’بابا‘ کا لفظ ہٹایا جائے، حالانکہ یہ دکان گزشتہ تین دہائیوں سے اسی نام سے چل رہی تھی۔
اس موقع پر 46 سالہ جم ٹرینر دیپک کمار (جو دیپک اکی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) اور ان کے ساتھی وجے راوت نے مداخلت کی اور بزرگ دکاندار کو ہراساں کیے جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ہجوم نے دیپک سے ان کا نام اور شناخت پوچھی تو انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کے طور پر اپنا نام ’’محمد دیپک‘‘ بتایا۔ اس جرات مندانہ اقدام نے وہاں موجود انتہا پسندوں کو مزید مشتعل کر دیا۔
حیران کن طور پر پولیس نے جہاں ہنگامہ آرائی کرنے والے ہجوم کے خلاف مقدمہ درج کیا، وہیں دیپک کمار اور ان کے ساتھیوں کو بھی نامزد کر لیا ہے۔ پولیس نے تین الگ الگ ایف آئی آرز درج کی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر دکاندار کی شکایت پر ہجوم کے خلاف درج کی گئی جس میں گھر میں گھسنے اور دھمکانے کے الزامات ہیں۔ دوسری ایف آئی آر ہائی وے بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف ہے، جبکہ تیسری ایف آئی آر بجرنگ دل کے کارکن کمل پال کی شکایت پر دیپک کمار اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج کی گئی ہے جس میں ان پر مار پیٹ اور ہنگامہ آرائی کا الزام لگایا گیا ہے۔
اس واقعے نے قومی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دیپک کمار کی ستائش کرتے ہوئے انہیں ’’بھارت کا ہیرو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ آئین اور انسانیت کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی نفرت کے خلاف کھڑے ہونے پر دیپک کے جذبے کو سراہا ہے۔
مقامی تنظیم ’انسانیت منچ‘ کے ایک وفد نے پولیس حکام سے ملاقات کی اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو خط لکھ کر دیپک کے خلاف مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دیپک کے عمل کو ’’محبت، بھائی چارے اور انسانیت کی اعلیٰ مثال‘‘ قرار دیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دیپک کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے الٹا ان پر مقدمہ درج کرنا افسوسناک ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سرویش پنوار کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ صورتحال کشیدہ نہ ہو۔
