جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر بجٹ سیشن کی گہما گہمی کے دوران لنگیٹ سے عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے ممبر اسمبلی شیخ خورشید نے حکومت کے سامنے عوامی مطالبات اور جمہوری حقوق کا مقدمہ پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ 6 فروری 2026 کو پیش ہونے والا سالانہ بجٹ (27-2026) عارضی ملازمین کی مستقلی اور عوام کو مفت بجلی و راشن فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا، تاہم انہوں نے ڈوڈہ کے ممبر اسمبلی کی ’پی ایس اے‘ کے تحت نظربندی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
’دی چناب ٹائمز‘ کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، شیخ خورشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بجٹ میں ڈیلی ویجرز اور کنٹریکچول ملازمین کی مستقلی اور تنخواہوں میں اضافے کے دیرینہ مسئلے کو حل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے 200 یونٹ مفت بجلی، مفت راشن اور گیس سلنڈر کے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا۔
شیخ خورشید نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اسمبلی میں دیے گئے حالیہ خطاب کو "انتہائی مایوس کن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا، ’’جموں و کشمیر آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں ایک سال پہلے تھا، ریاستی درجے کی بحالی محض الفاظ تک محدود ہے۔‘‘
لنگیٹ کے ایم ایل اے نے ڈوڈہ سے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے واحد رکن اسمبلی معراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مسلسل نظربندی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ معراج ملک ستمبر 2025 سے قید ہیں۔ شیخ خورشید نے ایل جی انتظامیہ کی جانب سے جمہوری اداروں کی مضبوطی کے دعووں کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک منتخب عوامی نمائندہ ہی ’کالے قانون‘ کے تحت جیل میں ہو تو جمہوریت کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے ایک جذباتی اور سخت بیان دیتے ہوئے کہا، ’’صرف معراج ملک جیل میں نہیں ہیں، جب تک وہ آزاد نہیں ہوتے، پوری اسمبلی جیل میں ہے۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو وزیر خزانہ بھی ہیں، 6 فروری کو اپنی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کریں گے۔ اس بجٹ سے جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام، بالخصوص سرکاری ملازمین اور غریب طبقے کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں جو مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
