جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں انتظامیہ نے قومی اہمیت کے حامل 850 میگاواٹ ’ریٹلی ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ‘ پر کسی بھی قسم کی ہڑتال، مظاہرے، گیٹ میٹنگ یا کام میں رکاوٹ ڈالنے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور 4 فروری 2026 سے اگلے دو ماہ تک برقرار رہے گی۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ حکم نامہ ’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا‘ (بی این ایس ایس)، 2023 کی دفعہ 163 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کو پروجیکٹ حکام اور انٹیلی جنس ذرائع سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کچھ مفاد پرست عناصر اور خود ساختہ لیبر یونینز کارکنوں کو اکسا کر، غیر قانونی اجتماعات اور ’ٹول ڈاؤن‘ (کام چھوڑ) ہڑتالوں کے ذریعے پروجیکٹ کے کام میں جان بوجھ کر خلل ڈال رہے ہیں۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ریٹلی پروجیکٹ اس وقت تعمیر کے انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور جنوری 2026 میں ڈیم کی ’کنکریٹنگ‘ کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اس مرحلے پر کام میں رکاوٹ نہ صرف قومی خزانے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ پابندی کا اطلاق دریائے چناب کے کنارے واقع ڈرابسہال میں پروجیکٹ سائٹ، کیمپس، اور ملحقہ راستوں پر ہوگا۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ’بھارتیہ نیائے سنہتا‘ (بی این ایس)، 2023 کی دفعہ 223 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایس ایس پی کشتواڑ اور متعلقہ حکام کو حکم نامے پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ریٹلی پروجیکٹ، جو کہ 5 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت کا منصوبہ ہے، اس کا تقریباً 26 سے 27 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے لیے قانونی راستے موجود ہیں، لہٰذا بلیک میلنگ یا غیر قانونی دباؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
