روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے روسی ملٹری انٹیلی جنس (جی آر یو) کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسیف پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مرکزی ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے روس منتقل کر دیا ہے۔ اتوار کو حکام نے تصدیق کی کہ 65 سالہ روسی شہری لیوبومیر کوربا کو متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے حراست میں لیا گیا اور فوری طور پر روس کے حوالے کر دیا گیا۔
’دی چناب ٹائمز‘ کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، جمعہ کے روز ماسکو کے شمال مغربی علاقے میں ایک رہائشی عمارت میں جنرل الیکسیف پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ اپنے گھر سے نکل رہے تھے۔ حملہ آور، جس نے مبینہ طور پر کوریئر بوائے کا بھیس بدل رکھا تھا، سیڑھیوں میں گھات لگا کر بیٹھا تھا اور موقع پاتے ہی جنرل پر گولیاں برسا کر فرار ہو گیا۔ جنرل الیکسیف کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی سرجری ہوئی اور اب وہ ہوش میں ہیں۔
ایف ایس بی نے انکشاف کیا ہے کہ اس سازش میں لیوبومیر کوربا اکیلا نہیں تھا بلکہ وکٹر واسینن اور زینائڈا سیریبریتسکایا نامی دو دیگر روسی شہری بھی بطور سہولت کار شامل تھے۔ وکٹر کو ماسکو سے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ زینائڈا کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ یوکرین فرار ہو چکی ہے۔ روسی تفتیشی کمیٹی نے اقدامِ قتل اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس حملے کا الزام یوکرین پر عائد کرتے ہوئے اسے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم یوکرینی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ایف ایس بی نے ملزم کی گرفتاری اور منتقلی کی فوٹیج بھی جاری کی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مجرموں کے تبادلے اور سکیورٹی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
مبصرین کے مطابق یوکرین تنازعے کے دوران روسی فوجی حکام پر حملوں کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے، تاہم اتنی تیزی سے بین الاقوامی سطح پر ملزم کی گرفتاری اور حوالگی روس کی انٹیلی جنس صلاحیتوں اور سفارتی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
