جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران بدھل سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی جاوید اقبال چوہدری نے مرکزی حکومت کے فنڈز کو ’خیرات‘ قرار دینے کے تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک دھواں دار تقریر کی ہے۔ انہوں نے ایوان میں واضح کیا کہ مرکز سے ملنے والا پیسہ جموں و کشمیر کے عوام کا آئینی حق ہے جو وہ ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں، لہٰذا اسے احسان نہ سمجھا جائے۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، بجٹ برائے سال 27-2026 پر عام بحث کے دوران جاوید اقبال نے آئین کے آرٹیکل 270 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں کی تقسیم ایک آئینی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام پانی، بجلی، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات پر بھی جی ایس ٹی (جی ایس ٹی) ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ گرانٹس کوئی خیرات نہیں بلکہ ہمارے ٹیکسوں کا حصہ ہے جو ہمیں واپس ملنا ہمارا حق ہے۔‘‘
ایم ایل اے بدھل نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کے مطابق جی ایس ٹی کی مد میں 8,400 کروڑ روپے جمع ہوئے اور بجلی کی پیداوار سے کروڑوں کا ریونیو حاصل ہوا، لیکن اس کے مقابلے میں تعلیمی بجٹ اور گرانٹس اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز کی کل گرانٹس جموں و کشمیر کی جانب سے دیے گئے کل ٹیکس اور وسائل کا نصف بھی نہیں ہیں۔
جاوید اقبال نے جموں خطے، بالخصوص پیر پنچال میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور باہر سے لائے گئے مزدوروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوپی اور بہار سے ٹھیکیداروں کے ذریعے لیبر لانے سے مقامی نوجوانوں کا روزگار چھینا جا رہا ہے اور یہ عمل مستقبل میں ڈیموگرافی اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے دور کے قوانین (آرٹیکل 370) کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین جموں کے لوگوں کی زمینوں اور نوکریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔
اپنے حلقہ انتخاب بدھل اور خطہ پیر پنچال کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا علاقہ قدرتی خوبصورتی میں پہلگام اور گلمرگ سے کم نہیں لیکن بجٹ میں اسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین کی کم شرح خواندگی (37 فیصد) پر تشویش ظاہر کی اور قبائلی بچیوں کے لیے رہائشی اسکولوں، راجوری پونچھ میں کلسٹر یونیورسٹی اور ٹورازم کو فروغ دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں آؤٹ سورسنگ ختم کر کے مقامی نوجوانوں کو مستقل کرنے کی بھی آواز اٹھائی۔
