ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید متضاد بیانیوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ کچھ ناقدین انہیں سنی اسلام کے مخالف رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں اور شام میں ہزاروں سنی شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ایران کی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔ دوسری جانب، ان کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایسے الزامات دراصل انہیں اسلامی جمہوریہ کے بانی روح اللہ خمینی سے خلط ملط کرنے کا نتیجہ ہیں، اور یہ خامنہ ای کی جانب سے مسلم یکجہتی کی بار بار کی جانے والی اپیلوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
جیسا کہ اکثر بااثر رہنماؤں کی موت پر ہوتا ہے، ان کا چھوڑا ہوا ورثہ تشریحات کا ایک میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔ سیاسی مخالفین ان کے دورِ حکومت کے تاریک ترین پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ حامی ان کے نظریات اور کامیابیوں پر زور دیتے ہیں۔ تاہم، حقیقت ہمیشہ کی طرح ان پیچیدہ راہداریوں میں پوشیدہ ہوتی ہے جہاں الہیات، سیاست اور انسانی تجربات آپس میں ٹکراتے ہیں۔
شیعہ سنی تعلقات پر خامنہ ای کا مذہبی موقف
اپنی عوامی تقریروں اور مذہبی فتووں میں، خامنہ ای نے بارہا اسلامی اتحاد کے تصور کو فروغ دیا۔ ان کے بیانات میں اکثر اس بات پر زور دیا گیا کہ سنی اور شیعہ مسلمان ایک ہی بنیادی عقائد یعنی قرآن، پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ اور اسلامی عبادات کی بنیادوں پر متفق ہیں۔
ان سے منسوب سب سے زیادہ حوالہ دیا جانے والا فتویٰ وہ ہے جس میں انہوں نے سنیوں کی محترم شخصیات، بشمول صحابہ کرامؓ اور ازواج مطہراتؓ کی توہین کو شرعی طور پر حرام قرار دیا۔ تاریخی طور پر، ایسی توہین شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان سب سے حساس مسائل میں سے ایک رہی ہے۔ بہت سے علمائے کرام نے اس فتوے کو فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے اور اشتعال انگیز بیان بازی کی حوصلہ شکنی کی ایک کوشش قرار دیا۔
اپنی قیادت کے دوران، خامنہ ای نے فرقہ وارانہ تقسیم کو ایک ایسا سیاسی ہتھیار قرار دیا جو مسلم دنیا کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی کئی تقاریر میں انہوں نے استدلال کیا کہ اندرونی تقسیم سے صرف بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور مسلم معاشروں کی طاقت کو نقصان پہنچتا ہے۔ تاہم، صرف مذہبی بیانات سے سیاسی حقائق کی مکمل وضاحت نہیں کی جا سکتی، خاص طور پر ایک ایسے خطے میں جو پیچیدہ اتحادوں اور تنازعات سے گھرا ہوا ہے۔
بشار الاسد کی حمایت اور شامی جنگ
خامنہ ای کے ورثے پر ہونے والی زیادہ تر تنقید شام کی خانہ جنگی میں ایران کے کردار سے جنم لیتی ہے، جو مشرق وسطیٰ کی جدید تاریخ کے تباہ کن ترین تنازعات میں سے ایک ہے۔
جب 2011 میں یہ جنگ شروع ہوئی، تو ایران شامی صدر بشار الاسد کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک بن کر ابھرا۔ خامنہ ای کی قیادت میں، ایران نے شامی حکومت کی حمایت کے لیے مالی امداد، فوجی مشیر اور اتحادی ملیشیاؤں کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون فراہم کیا۔ یہ حمایت ایک وسیع تر اتحاد کا حصہ تھی جس میں روس اور لبنان کی حزب اللہ بھی شامل تھے۔
اس جنگ نے بے پناہ انسانی المیوں کو جنم دیا۔ لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہوئے۔ چونکہ شام کی آبادی کی بھاری اکثریت سنیوں پر مشتمل ہے، اس لیے ناقدین اکثر اس تنازعے کو ایک شیعہ حمایت یافتہ اتحاد کے طور پر پیش کرتے ہیں جو سنی شہریوں کے قتلِ عام کی ذمہ دار حکومت کی پشت پناہی کر رہا تھا۔
تاہم، شامی تنازعہ ایک سادہ فرقہ وارانہ جنگ سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔ میدانِ جنگ میں متعدد دھڑے لڑ رہے تھے، جن میں سیکولر باغی، اسلام پسند گروہ، کرد فورسز، داعش کے جنگجو اور روس، ترکی اور امریکہ جیسے بین الاقوامی کھلاڑی شامل تھے۔ یہاں تک کہ شامی ریاستی ڈھانچے کے اندر بھی، بہت سے فوجی اور اہلکار سنی مسلمان تھے۔ اسی لیے بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ جنگ خالصتاً فرقہ وارانہ نظریے کے بجائے اقتدار کی سیاست سے تشکیل پانے والی ایک جغرافیائی و سیاسی کشمکش تھی۔
فرقہ وارانہ بیانیے اور علاقائی کشمکش
اس پیچیدگی کے باوجود، مشرق وسطیٰ کے بیشتر حصوں میں فرقہ وارانہ بیانیے تیزی سے غالب آ گئے۔ ایران کے مخالفین نے اکثر اس تنازعے کو شیعہ ایران اور سعودی عرب و اس کے اتحادیوں جیسی سنی طاقتوں کے درمیان وسیع تر علاقائی کشمکش کا حصہ قرار دیا۔ اس تشریح کو اس لیے بھی تقویت ملی کیونکہ ایران نے شام اور عراق میں کام کرنے والی کئی شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت کی تھی۔
اسی دوران، کچھ سنی اکثریتی ریاستوں نے اسد کے خلاف لڑنے والے اپوزیشن گروہوں کو سیاسی یا فوجی مدد فراہم کی۔ حقیقت میں، مشرق وسطیٰ میں اتحاد اکثر فرقہ وارانہ خطوط سے ہٹ کر بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایران نے طویل عرصے سے سنی فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت کی ہے، جبکہ بعض سنی ریاستوں نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کیا ہے۔ یہ تضادات ایک سادہ لیکن اہم حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں: علاقائی سیاست اکثر الہیاتی تقسیم سے زیادہ طاقت اور سلامتی کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔
خمینی اور خامنہ ای کے درمیان الجھن
اس بحث میں الجھن کا ایک اور بڑا سبب روح اللہ خمینی اور علی خامنہ ای کے ناموں اور ادوار کو آپس میں ملانا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے رہنما خمینی ایک انقلابی نظریہ دان تھے جن کی تحریروں اور تقریروں نے اسلامی جمہوریہ کی نظریاتی بنیادیں رکھیں۔ ان کی بیان بازی اکثر اس دور کے شدید سیاسی ماحول کی عکاسی کرتی تھی۔
اس کے برعکس خامنہ ای، جو خمینی کی موت کے بعد 1989 میں سپریم لیڈر بنے، نے ایک مختلف جغرافیائی و سیاسی ماحول میں حکومت کی۔ تجزیہ کار اکثر ان کی طرزِ قیادت کو ریاستی تدبر پر زیادہ مرکوز قرار دیتے ہیں، اگرچہ وہ خمینی کے بنائے ہوئے نظریاتی ڈھانچے کے اندر ہی کام کرتے رہے۔ آن لائن گردش کرنے والے بہت سے متنازعہ اقتباسات بعض اوقات غلطی سے خامنہ ای سے منسوب کر دیے جاتے ہیں، جبکہ ان کا ماخذ دیگر علما یا ابتدائی انقلابی لٹریچر ہوتا ہے۔
ایک گفتگو جو ایران کے اندرونی کرب کی عکاس ہے
جغرافیائی سیاست اور نظریات سے ہٹ کر، خامنہ ای کے گرد ہونے والی بحث عام ایرانیوں کے گہرے ذاتی تجربات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ خامنہ ای کے انتقال کے فوراً بعد، ایک سنی ایرانی شخص—جو مجھے انسٹاگرام پر برسوں سے فالو کر رہا تھا—نے مجھ سے رابطہ کیا اور ایران کی موجودہ صورتحال پر اپنی گہری مایوسی اور خوف کا اظہار کیا۔
اس نے اپنے پیغام میں اسلامی جمہوریہ پر شدید غصے کا اظہار کیا اور لکھا کہ کاش ایرانی قیادت کے حامی ملک کے اندر عوام کی تکالیف کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے۔ اس کا ماننا تھا کہ اسلامی جمہوریہ کا نظریہ طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے ساتھ محاذ آرائی پر مرکوز رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے اندر معاشی اور سماجی مسائل ایک طویل عرصے سے حل طلب ہیں۔
”کاش آپ میں سے وہ لوگ، جو اس شخص کی حمایت کرتے ہیں، ایران کو قریب سے دیکھ سکتے،” اس نے مجھے لکھا، اور ان دردناک حقائق کا ذکر کیا جن کا بقول اس کے عام ایرانی روزانہ سامنا کرتے ہیں۔
روس ہجرت کر جانے والے اس شخص نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ایران کے اندر انٹرنیٹ کی بار بار بندش کے دوران خاندان کے افراد سے رابطہ منقطع ہونا کتنا اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حالیہ ہنگاموں کے دوران ہفتوں تک رشتہ داروں سے رابطہ ناممکن رہا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان ہنگاموں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے، اگرچہ اس نے درست اعداد و شمار کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا اعتراف بھی کیا۔
یہ گفتگو اس بات کی واضح مثال تھی کہ کس طرح سیاسی بحثیں اکثر لوگوں کے گہرے ذاتی دکھوں سے جا ٹکراتی ہیں۔
میں نے اسے فارسی میں جواب دیا اور اس کی تکالیف پر اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ میں نے اپنے پیغام میں اسے بتایا کہ مجھے ان تمام مشکلات پر بے حد افسوس ہے جن کا اس نے سامنا کیا ہے، خاص طور پر انٹرنیٹ کی بندش کے دوران اپنے پیاروں سے کٹ جانے کا کرب۔ بحران کے وقت اپنوں سے رابطہ منقطع ہونا واقعی ایک ایسی اذیت ہے جس کا کوئی انسان مستحق نہیں۔
ساتھ ہی، میں نے اسے یہ بھی سمجھایا کہ واضح اور قابلِ تصدیق شواہد کے بغیر، میرے لیے گردش کرنے والے اعداد و شمار اور دعووں پر کوئی حتمی فیصلہ صادر کرنا مشکل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ایران سے آنے والی معلومات اکثر متنازعہ ہوتی ہیں اور مختلف فریقین انہیں اپنے مقاصد کے لیے کنٹرول کرتے ہیں۔
میں نے اس پر یہ بات بھی پوری طرح واضح کر دی کہ ایران کے حوالے سے میرے سابقہ تجزیوں کا مقصد عام لوگوں کی تکالیف کو جھٹلانا یا انہیں نظر انداز کرنا ہرگز نہیں تھا۔ ذاتی دکھ اور وسیع تر جغرافیائی و سیاسی حقائق بیک وقت وجود رکھ سکتے ہیں؛ ایک کو تسلیم کرنے کا مطلب دوسرے کا انکار کرنا نہیں ہوتا۔
اس نے میرے اس پیغام پر ایک اداس ایموجی کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا اور یوں ہماری یہ گفتگو اختتام پذیر ہو گئی۔
ہلاکتوں کے بارے میں متضاد رپورٹس
ایران میں حالیہ ہنگاموں کے دوران ہونے والے تشدد کے پیمانے پر رپورٹس اب بھی متنازعہ ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش اور آزادانہ رپورٹنگ پر پابندیوں کی وجہ سے اندازے بہت مختلف ہیں۔
ایرانی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ہنگاموں کے دوران 3,000 سے زائد افراد مارے گئے۔ دوسری جانب، امریکہ میں قائم ’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی‘ (HRANA) کا کہنا ہے کہ اس نے 6,000 سے زائد اموات کی تصدیق کی ہے اور مزید 17,000 کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے، جس سے کل تعداد 22,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ایران سے باہر کچھ طبی ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ تعداد 30,000 تک بھی ہو سکتی ہے، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
بھارت میں مظاہرے اور یکجہتی کے نعرے
خامنہ ای کے انتقال کے بعد، بھارت کے مختلف حصوں بشمول کشمیر، کرگل اور وادی چناب میں بھی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ وادی چناب کے ضلع ڈوڈہ میں، جہاں مسلم آبادی کی اکثریت سنی ہے اور شیعہ برادری نہ ہونے کے برابر ہے، وہاں بھی خامنہ ای کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں جن میں مسلم یکجہتی پر زور دیا گیا۔
شرکاء نے یہ نعرے لگائے:
"ایران سے آواز آئی، شیعہ سنی بھائی بھائی۔
کشمیر سے آواز آئی، شیعہ سنی بھائی بھائی۔
چناب سے آواز آئی، شیعہ سنی بھائی بھائی۔”
سوشل میڈیا پر، کئی نوجوانوں نے ان مبصرین کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اس بحث کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی۔ ایک وائرل تبصرے میں دعویٰ کیا گیا کہ "جنریشن زیڈ شیعہ سنی بحث کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گی۔”
آیت اللہ علی خامنہ ای کے ورثے کے گرد ہونے والی بحث یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح تاریخی شخصیات وسیع تر نظریاتی مباحثوں میں علامت بن جاتی ہیں۔ کچھ کے لیے، وہ مغربی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت اور اسلامی سیاسی شناخت کے محافظ کی علامت ہیں۔ دوسروں کے لیے، وہ ایک ایسے آمرانہ نظام کی علامت ہیں جو سیاسی جبر اور علاقائی تنازعات کا ذمہ دار ہے۔
ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی میراث نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا میں زیرِ بحث رہے گی، جہاں طاقت، شناخت، اور سیاسی اختیار کے سوالات آج بھی ارتقائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔
