اوکلا ہومہ: 30 سال بعد موت کے قیدی کی ضمانت پر رہائی، نئی سماعت کی امید

اوکلا ہومہ: تقریباً 30 برس بعد موت کی سزا کا منتظر قیدی رہا، نئی سماعت کا موقع

اوکلا ہومہ کا ایک شخص، جسے تین بار سزائے موت دی جانی تھی، لگ بھگ تین دہائیوں کے بعد پہلی بار ضمانت پر رہا ہو گیا ہے۔ یہ رہائی 1997 کے ایک قتل کے مقدمے میں دوبارہ سماعت کے منتظر ریچرڈ گوسپ کی جانب سے متعدد قانونی چیلنجز کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

63 سالہ گوسپ نے، جو 1997 سے موت کی سزا یافتہ قیدیوں کی قطار میں شامل تھے، حال ہی میں ضمانت جمع کرائی ہے۔ فروری 2024 میں ان کی سزائے موت پر عملدرآمد ہونا تھا، لیکن ایک جج نے پراسیکیوشن کی جانب سے ممکنہ بدانتظامی کے انکشافات کے بعد اس پر حکم امتناعی جاری کر دیا۔

گوسپ کے خلاف مقدمہ 1997 میں سٹی اوکلا ہومہ کے بیسٹ بجٹ ان کے مالک، بیری وین ٹریز کے قتل کے جرم میں درج کیا گیا تھا۔ گوسپ پر الزام تھا کہ اس نے جسٹن سنیڈ نامی شخص کو وین ٹریز کے قتل کی सुपारी دی تھی۔ سنیڈ، جس نے خود قتل کا اعتراف کیا ہے، نے گواہی دی تھی کہ گوسپ نے اسے قتل کرنے کے عوض 10,000 ڈالر کی پیشکش کی تھی۔ سنیڈ اس وقت قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

گوسپ کی قانونی ٹیم کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ ان کی سزا ناکافی ثبوتوں پر مبنی تھی اور پراسیکیوشن نے ایسے شواہد چھپائے جو ان کے حق میں جا سکتے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سنیڈ ہی اصل مجرم تھا اور گوسپ کو اس قتل سے جوڑنے والا کوئی براہ راست ثبوت موجود نہیں، سوائے سنیڈ کی گواہی کے۔ دفاع نے اصل مقدمے اور بعد کی اپیلوں کی شفافیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اوکلا ہومہ کورٹ آف کریمینل اپیلز نے پہلے بھی گوسپ کی سزا اور موت کی سزا کو کئی بار برقرار رکھا تھا۔ تاہم، جنوری 2024 میں، ایک وفاقی جج نے گوسپ کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے حکم امتناعی کی منظوری دی۔ یہ اقدام گوسپ کے وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی ایک ہنگامی درخواست کے بعد کیا گیا، جس میں نئے شواہد اور سابق اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی بل پیٹرسن کی مبینہ بدانتظامی کا حوالہ دیا گیا تھا۔ حکم امتناعی میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ پراسیکیوشن نے ممکنہ طور پر ایسے شواہد کو دبایا ہو جو گوسپ کے دفاع کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے تھے۔

دفاعی ٹیم کے دلائل کو 2023 میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ رپورٹ میں پراسیکیوشن کی بدانتظامی کے الزامات کی تفصیل دی گئی تھی، جن میں گواہوں کے بیانات کو دبانے اور گوسپ کے وکلاء کے مطابق ایسے شواہد کو چھپانا شامل تھا جو اس کی بے گناہی پر شک پیدا کر سکتے تھے۔ اس نئے دباؤ کے نتیجے میں مزید قانونی کارروائیاں ہوئیں اور بالآخر سزائے موت پر عملدرآمد رک گیا۔

گوسپ، موت کی سزا کے خلاف بحث میں ایک نمایاں شخصیت بن گئے ہیں، اور متعدد وکالت گروپ ان کے مقدمے کے بارے میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ ان کی کہانی دستاویزی فلموں اور وسیع میڈیا کوریج کا موضوع رہی ہے، جس میں بہت سے لوگوں کے نزدیک ہونے والی ناانصافی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کی بے گناہی کے امکان نے ان بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے جو موت کی سزا کے نظام کی قابل بھروسہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ضمانت پر گوسپ کی رہائی ان کی دہائیوں پر محیط قانونی جنگ میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ضمانت پر رہتے ہوئے، گوسپ کو کچھ شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں عام طور پر حکام کو رپورٹ کرنا اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔ ان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع ہوگی، جو انہیں اپنا دفاع پیش کرنے اور ممکنہ طور پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا ایک اور موقع فراہم کرے گی۔

قانونی کارروائی طویل اور پیچیدہ رہی ہے، جس میں متعدد اپیلیں اور سزائے موت پر عملدرآمد کے حکم امتناعی شامل ہیں۔ گوسپ کے مقدمے نے قانونی ماہرین، سول رائٹس تنظیموں اور

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں