راجوری میں جنگلی سبزی جان لیوا: ایک موت، سات اسپتال میں

جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں ایک المناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک جنگلی سبزی کھانے کے بعد ایک شخص ہلاک اور سات دیگر افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ یہ دلخراش واقعہ کوٹرنکہ سب ڈویژن کے موہرا گاؤں میں پیش آیا۔

‘دی چناب ٹائمز’ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، دو خاندانوں کے افراد نے جمعہ کی شام کو یہ جنگلی سبزی کھائی تھی، جس کے بعد ان میں فوڈ پوائزنگ کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ ابتدائی طور پر انہیں کینڈی کے کمیونٹی ہیلتھ سنٹر لے جایا گیا، جہاں سے انہیں بہتر طبی امداد کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال راجوری منتقل کر دیا گیا۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ 60 سالہ محمد حسین نامی ایک بزرگ شخص دوران علاج موت کا شکار ہو گئے۔ باقی سات افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں، اس وقت ہسپتال میں طبی نگرانی میں ہیں۔ طبی ماہرین نے بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں اس واقعے کی وجہ فوڈ پوائزنگ ہی قرار دی جا رہی ہے۔

اس جنگلی سبزی کی اصل نوعیت اور ہلاکتوں اور اسپتال میں داخل ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے حکام نے ایک تحقیقاتی عمل شروع کر دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اس مخصوص پودے کی شناخت کے لیے کوشاں ہے جو اس سانحے کا سبب بنا، اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کے بارے میں ہدایات جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگلی اشیاء کو بغیر صحیح شناخت کے جمع کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقے میں جہاں مختلف قسم کے پودے پائے جاتے ہیں۔ حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی اور ٹاکسیکولوجی رپورٹس دستیاب ہوں گی، مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ کمیونٹی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور محفوظ غذائی عادات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے پر زور دیا ہے۔

متاثرہ افراد کی حالت اور موت کی وجہ کی تحقیقات جاری رہنے کے ساتھ ساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کی امید ہے۔ اس وقت ترجیح زیر علاج افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کے اعادہ کو روکنے کے لیے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں