دہلی: بریک فیل، بس ڈیوائیڈر پر چڑھ گئی، خدا کا شکر خیر!

دہلی میں ایک بس کے بریک فیل ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں بس راج گھاٹ کے قریب روڈ ڈیوائیڈر پر چڑھ گئی۔ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا اور خوش قسمتی سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق، دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی یہ بس سرائے کالے خان سے راج گھاٹ کے روٹ پر چل رہی تھی جب مصروف ترین چوک پر پہنچتے ہی اس کے بریکوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ خدشہ ہے کہ بریک فیل ہونے کے باعث، ڈرائیور نے بڑی گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں سے بچنے کے لیے بس کو احتیاط سے ڈیوائیڈر پر چڑھا دیا، جس سے بس سڑک کے درمیان میں ترچھا کھڑی ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈی ٹی سی کی بس ڈیوائیڈر پر پھنسی ہوئی ہے اور لوگ اس منظر کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت بس میں صرف ڈرائیور اور کنڈکٹر سوار تھے اور دونوں محفوظ رہے۔

موقع پر موجود ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ڈرائیور کے بروقت اور سمجھداری والے فیصلے نے ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا۔ اگر ڈرائیور ایسی کوشش نہ کرتا تو بس دوسری گاڑیوں سے ٹکرا سکتی تھی یا پیدل چلنے والوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ٹریفک کے بہاؤ کو معمول پر لانے اور بس کو ہٹانے کا بندوبست کیا۔

بس کے ڈیوائیڈر پر ہونے کی وجہ سے راج گھاٹ کے آس پاس کے علاقے میں ٹریفک جام ہو گیا، جو کہ دارالحکومت کا ایک اہم سنگم ہے۔ راہگیر سڑک کنارے جمع ہو گئے اور اپنے موبائل فون پر اس صورتحال کی عکسبندی کرتے رہے۔

اس واقعے کی اطلاع آئی پی اسٹیٹ تھانے میں درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس کی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں۔ پولیس حکام نے بریک فیل ہونے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ڈی ٹی سی انتظامیہ نے اس واقعے کا اعتراف کیا ہے اور متعلقہ ڈپو مینیجر سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔ اس تحقیقات کا مقصد مسئلے کی جڑ تک پہنچنا اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ گنجان آباد شہری علاقوں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی باقاعدگی سے دیکھ بھال اور حفاظتی جانچ پڑتال کتنی ضروری ہے۔ اگرچہ اس خاص واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، لیکن ایسے تکنیکی مسائل عوام کی حفاظت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں