سری نگر، 23 مئی: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والی عید الاضحیٰ کو سادگی اور انکساری کے ساتھ منائیں، بالخصوص دنیا بھر میں جاری تناؤ اور کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
"دی چناب ٹائمز” کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ڈاکٹر عبداللہ نے یہ اپیل سنیچر کو سری نگر کے خانقاہ علاقے میں واقع پیر سید علی ہمدانی کے مزار پر حاضری کے بعد کی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی اور تہوار کو سادگی سے منانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ "میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دنیا کی موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے عید کو انکساری سے منائیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا۔ اس لیے دعا کریں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم ہو جائے اور ہم پرامن زندگی گزار سکیں۔ امن سب سے بڑی نعمت ہے۔”
جموں و کشمیر کے تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکے فاروق عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے مزار پر حاضری کے دوران پوری دنیا کے لیے امن کی دعا کی اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی "نفرت کے زہر” کے خاتمے کی بھی استدعا کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے دعا کی کہ پوری دنیا میں امن قائم ہو اور لوگ بھائی چارے کے ساتھ رہیں۔ خدا کرے کہ ملک میں پھیلنے والا نفرت کا زہر ختم ہو جائے تاکہ ہم سب بھائی چارے کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔” ان کی یہ اپیل خاص طور پر ان حالات میں اہمیت رکھتی ہے جب دنیا بھر میں مختلف تنازعات اور جنگی صورتحال پائی جاتی ہے، جس کا اثر بالواسطہ یا بلاواسطہ ہر کسی پر پڑتا ہے۔ ان کا پیغام امن، بھائی چارے اور انسانیت کی بقا پر زور دے رہا ہے، جو عید کے موقع پر ایک اہم اور قابل تحسین پہلو ہے۔
