لودھرا، پنجاب: ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں لودھرا کے ایک شمشان گھاٹ سے نقاب پوش چوروں نے بھاری لوہے کے شہتیر اور چاندی کا ایک برتن چرا لیا۔ یہ واردات اتوار کی رات کو ہوئی۔ اس واقعے نے عوامی مقامات پر سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر گہری تشویش کو جنم دیا ہے۔
"دی چناب ٹائمز” کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، چار نقاب پوش افراد، جن کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوئی ہے، نے ماچھیواڑا صاحب شمشان گھاٹ میں گھس کر تقریباً 150 کلوگرام وزنی لوہے کے بھاری شہتیر اکھاڑ لیے۔ یہ شہتیر آخری رسومات کے دوران لاشوں کو سہارا دینے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
چوری کی تفصیلی روداد:
دُرگا شکتی کمیٹی کے صدر، نند کشور نے چوری ہونے والی اشیاء کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لوہے کے بھاری شہتیروں کے علاوہ، چوروں نے پیتل کے شیش ناگ کا بت اور ایک چاندی کا برتن بھی چرایا۔ کمیٹی کے اراکین نے بتایا کہ مشتبہ افراد نے شمشان گھاٹ میں لاشیں منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی سے بیٹری چرانے کی بھی کوشش کی، لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شمشان گھاٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ کمیٹی کے اراکین نے یاد دلایا کہ پہلے بھی اسی احاطے میں موجود مندر کو نشانہ بنایا گیا تھا اور پیتل کے نل چرائے گئے تھے۔ یہ سلسلہ اس جگہ پر چوری اور توڑ پھوڑ کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی نشاندleg کرتا ہے۔
پولیس کی تحقیقات جاری:
مقامی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چوروں نے چوری شدہ بھاری لوہے کے شہتیروں اور دیگر اشیاء کو منتقل کرنے کے لیے کسی گاڑی کا استعمال کیا ہوگا۔ ماچھیواڑا اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پویتر سنگھ نے تصدیق کی ہے کہ باقاعدہ شکایت درج کر لی گئی ہے اور مجرموں کو پکڑنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مشتبہ افراد کی شناخت میں مدد کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
شمشان گھاٹ جیسی مقدس اور عوامی جگہ سے چوری کا یہ واقعہ مقدس مقامات اور عوامی سہولیات کی بے حرمتی کے ایک تشویشناک رجحان کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسی جگہوں پر سیکیورٹی کے انتظامات اکثر کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جرائم پیشہ افراد کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ یہ واقعہ پورے خطے میں عوامی سہولیات کی حامل جگہوں پر حفاظتی اقدامات پر نظر ثانی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
حکام عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ تحقیقات میں مدد کے لیے کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کریں۔ چوری شدہ سامان کی بازیابی اور ذمہ داران کی گرفتاری کو مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اولین ترجیح سمجھا جا رہا ہے۔ شمشان گھاٹ سے شہتیروں کا چوری ہونا، جو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ناگزیر ہیں، ماچھیواڑا صاحب شمشان گھاٹ پر انحصار کرنے والی کمیونٹی کے لیے ایک فوری چیلنج پیش کرتا ہے۔
دُرگا شکتی کمیٹی نے اس واقعے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کو امید ہے کہ اس معاملے کا جلد از جلد حل نکلے گا اور شمشان گھاٹ پر سیکیورٹی کا احساس بحال ہوگا۔
