نئی دہلی، 23 ستمبر (چناب ٹائمز) — سپریم کورٹ نے پیر کو ایک اہم مشاہدہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہتک عزت کو جرم کے زمرے سے نکال دیا جائے‘‘۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بینچ کی یہ رائے 2016 کے اس فیصلے سے مختلف رخ ظاہر کرتی ہے جس میں عدالت نے فوجداری ہتک عزت کو آئینی قرار دیا تھا۔
یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت دی وائر کی ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ معاملہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی پروفیسر امیتا سنگھ کی طرف سے دائر ایک ہتک عزت مقدمے سے جڑا ہے۔ الزام ہے کہ 2016 میں دی وائر نے ایک مضمون میں پروفیسر سنگھ کو ایسے گروپ کی قیادت کرنے والا بتایا تھا جس نے یونیورسٹی پر "غداری اور دہشت گردی کا اڈہ” ہونے کا 200 صفحات پر مشتمل ڈوزیئر تیار کیا تھا، جس میں "جنسی ریکیٹ” کے الزامات بھی شامل تھے۔ اسی بنیاد پر پروفیسر سنگھ نے فوجداری مقدمہ درج کرایا تھا۔
ابتدائی طور پر مجسٹریٹ عدالت نے 2017 میں طلبی جاری کی تھی، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے از سرِنو جائزے کے لیے کالعدم قرار دیا۔ تاہم جنوری 2025 میں نئی طلبی جاری کی گئی جسے دہلی ہائی کورٹ نے بھی درست مانا۔ اسی کے خلاف دی وائر نے موجودہ اپیل دائر کی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس سندریش نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر معاملہ دو نجی افراد کے درمیان ہو تو اس کا عوامی مقصد کیا ہے؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ فوجداری ہتک عزت کو ختم کیا جائے۔ سینئر وکیل کپل سبل، جو دی وائر کے ادارے کی نمائندگی کر رہے تھے، نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ بینچ نے مقدمے کے طویل عرصے سے زیرِ التوا رہنے پر بھی تشویش ظاہر کی اور راہل گاندھی جیسے دیگر مقدمات کا حوالہ دیا۔ عدالت نے عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے فہرست میں ڈال دیا۔
خیال رہے کہ 2016 میں جسٹس دیپک مشرا (جو بعد میں چیف جسٹس بنے) نے اپنے فیصلے میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 499 اور 500 (اب بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 356) اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 199 کو برقرار رکھا تھا۔ عدالت نے اس وقت کہا تھا کہ ’’شہرت بھی آرٹیکل 21 کے تحت بنیادی حق ہے‘‘ اور فوجداری ہتک عزت اظہارِ رائے کی آزادی (آرٹیکل 19) پر ’’معقول پابندی‘‘ کے دائرے میں آتی ہے۔
یہ تازہ ترین غور و فکر اس وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ برسوں میں راہل گاندھی، اروند کیجریوال اور سبرامنیم سوامی جیسے کئی ہائی پروفائل رہنماؤں نے بھی فوجداری ہتک عزت کے قانون پر سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت نے فی الحال کوئی حتمی ہدایت نہیں دی اور معاملہ آئندہ غور کے لیے رکھا گیا ہے۔
