سرینگر، 24 ستمبر — بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سیکریٹری برائے تنظیم جموں و کشمیر، اشوک کول نے کہا ہے کہ عاپ ایم ایل اے مہراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتاری میں قانون اپنا کام خود کرے گا اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
اشوک کول نے منگل کو سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں تک کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مہراج ملک نے ایک سرکاری افسر کے خلاف جو کچھ کہا، وہ درست نہیں تھا۔ تو اب نیشنل کانفرنس کیا سوال اٹھا سکتی ہے؟ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور اس سے کوئی بالاتر نہیں، چاہے وہ بی جے پی ہو یا این سی۔‘‘
خیال رہے کہ ڈوڈہ سے واحد عاپ ایم ایل اے اور ریاستی صدر مہراج ملک کو 8 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ ہروندر سنگھ نے ’’امنِ عامہ میں خلل‘‘ ڈالنے کے الزام میں پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان پر اب تک 18 ایف آئی آر درج ہیں جن میں سرکاری اہلکاروں کو دھمکانے جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں انہیں کٹھوعہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے اشوک کول نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی پارلیمان میں یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کو بہت جلد ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔
سیلاب سے ہونے والے حالیہ نقصانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محصولات، زراعت اور باغبانی محکموں کی جائزہ رپورٹ مکمل ہو چکی ہے جو مرکز کو بھیجی جائے گی۔ ’’وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (SDRF) کے لیے 209 کروڑ روپے جاری کر چکے ہیں اور جلد ہی ایک جامع معاوضہ پیکیج کا اعلان متوقع ہے۔ جس کسی کو بھی نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کی جائے گی۔‘‘
اسمبلی کے آئندہ اجلاس (13 اکتوبر سے تجویز کردہ) کے بارے میں کول نے کہا کہ حکومت کو شیڈول طے کرتے وقت ہندو تہواروں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ’’کئی ہندو تہوار قریب ہیں اور حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اجلاس ان کے دوران نہ آئے۔‘‘
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
