اقوام متحدہ، 28 ستمبر — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہفتے کی رات ایران پر دوبارہ اسلحہ کی پابندی اور دیگر سخت اقتصادی و سفری پابندیاں نافذ کر دیں۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کی جانب سے 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی سنگین خلاف ورزیوں پر "اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کیا۔
نئی پابندیوں کے تحت ایران کے یورینیم افزودگی اور دوبارہ پروسیسنگ کے پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور حساس ٹیکنالوجی تک رسائی پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ساتھ ہی مخصوص شخصیات پر سفری پابندیاں، اداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور اسلحہ کی برآمد و درآمد پر بھی عالمی قدغن لگ گئی ہے۔
یہ اقدام ایک روز بعد سامنے آیا جب روس اور چین کی چھ ماہ تاخیر کی تجویز سلامتی کونسل میں مسترد ہو گئی۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اس فیصلے کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اسے تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم "سخت جوابی اقدامات” کی وارننگ دی۔ فیصلے کے بعد ایرانی ریال کی قدر مزید گر کر ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ سطح 11 لاکھ 23 ہزار تک پہنچ گئی۔
یورپی ممالک نے کہا ہے کہ اگر ایران بین الاقوامی معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے اور یورینیم افزودگی سے متعلق خدشات دور کرے تو مذاکرات کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی جا سکتی ہے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "پابندیوں کا نفاذ سفارت کاری کے خاتمے کے مترادف نہیں۔”
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی زور دیا کہ سفارت کاری ہی بہترین راستہ ہے لیکن ایران کو براہِ راست بات چیت میں "خیر نیتی” کے ساتھ آنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی پابندیوں کا فوری نفاذ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ضروری ہے تاکہ مستقبل میں نیا معاہدہ ممکن ہو سکے۔
یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور امریکا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
