نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمان چوہدری محمد رمضان نے نئی دہلی میں فلسطینی وزیر خارجہ ڈاکٹر وارسین آغابیکیان شاہین سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں جاری تشدد اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ ملاقات قومی دارالحکومت میں منعقدہ ’دوسری انڈیا-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ‘ کے موقع پر ہوئی۔ چوہدری محمد رمضان نے فلسطینی وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور تشدد صرف نفرتوں اور خلیج کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، جبکہ مصالحت کا واحد راستہ بامقصد بات چیت اور سفارت کاری ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان کے مطابق، ایم پی چوہدری رمضان نے ایک "منصفانہ، پائیدار اور جامع امن” کے قیام پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی رہنما کو بتایا کہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات ہی امن کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ اس موقع پر چوہدری رمضان نے غزہ سے موصول ہونے والی تصاویر اور انسانی بحران کی رپورٹس کو انتہائی دلخراش قرار دیا۔
فلسطینی وزیر خارجہ ڈاکٹر وارسین نے ملاقات کے دوران غزہ کی موجودہ زمینی صورتحال، سیاسی پیش رفت اور وہاں درپیش سنگین انسانی بحران پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے متوازن نقطہ نظر اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی تاریخی حمایت کو سراہا۔
مبصرین کے مطابق، چوہدری محمد رمضان کی یہ ملاقات نیشنل کانفرنس کی دیرینہ پالیسی کی عکاس ہے جو ہمیشہ سے فلسطینی کاز کی حمایتی رہی ہے۔ یہ موقف بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی اور ’دو ریاستی حل‘ (دو ریاست حل) کی حمایت سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی وزیر خارجہ اپنے موجودہ عہدے پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چوہدری رمضان اور فلسطینی وزیر کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کو دونوں جانب سے انتہائی تعمیری اور مثبت قرار دیا گیا ہے۔
