جموں و کشمیر پولیس کے کرائم برانچ ونگ ’ایکنامک آفنسز ونگ‘ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے عوام کو لوٹنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے خلاف گھیرا تنگ کر لیا ہے۔ ای او ڈبلیو نے جعلی لاٹری اسکیم کے ذریعے ایک شہری کو لاکھوں روپے سے محروم کرنے کے الزام میں دو ملزمان کے خلاف عدالت میں چالان (فردِ جرم) پیش کر دیا ہے۔ ان نوسربازوں نے شہری کو کروڑوں روپے کے انعام اور لگژری گاڑی کا لالچ دے کر دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا تھا۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ کیس 2017 کا ہے جب ایک شکایت کنندہ کو فون کال موصول ہوئی جس میں اسے جھوٹی اطلاع دی گئی کہ اس نے برطانیہ کی کمپنی ’میسرز شیورلیٹ موٹرز پروموشن لمیٹڈ‘ کی جانب سے 2.35 کروڑ روپے کا نقد انعام اور ایک مہنگی گاڑی جیتی ہے۔ تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ ملزمان نے ایک منظم سازش کے تحت شکایت کنندہ کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹرانسفر چارجز کے بہانے مختلف بینک کھاتوں میں رقم جمع کرانے پر مجبور کیا، لیکن انعام کے نام پر اسے کچھ نہ ملا۔
کرائم برانچ کشمیر نے اس معاملے کی ایف آئی آر نمبر 24/2017 کے تحت تحقیقات کیں۔ ملزمان نے شکایت کنندہ کو ای میلز کے ذریعے خود کو ’فرینک بان‘ نامی فرضی افسر ظاہر کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ کے کھاتوں میں رقم منگوائی۔
تفتیش کے دوران دستاویزی اور زبانی شواہد کی بنیاد پر ہریانہ کے رہائشی جیتو راج جوہری (ولد آنند کمار جوہری) اور دہلی کے رہائشی سریش ٹھاکر (ولد رمیش ٹھاکر) کو اس جرم کا مرتکب پایا گیا۔ حکام کے مطابق ان دونوں ملزمان نے دھوکہ دہی اور بددیانتی سے کام لیتے ہوئے شکایت کنندہ سے لاکھوں روپے ہتھیا لیے۔
ای او ڈبلیو کشمیر نے مکمل تحقیقات کے بعد اب ان دونوں ملزمان کے خلاف سٹی منصف (جے ایم آئی سی) سری نگر کی عدالت میں چالان پیش کر دیا ہے تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیس ان ’ایڈوانس فیس فراڈ‘ کی ایک کڑی ہے جس میں سادہ لوح عوام کو بیرونِ ملک سے بھاری انعامات کا لالچ دے کر لوٹا جاتا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی غیر تصدیق شدہ کال یا ای میل پر یقین نہ کریں اور کسی بھی نامعلوم شخص کو رقم منتقل کرنے سے گریز کریں۔
