جموں و کشمیر اسمبلی میں بدھ کے روز اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے خطہ پیر پنچال کو الگ ڈویژن کا درجہ دینے کے مطالبے کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ اس خطے کے الگ وجود سے ہی انکار کر دیا۔ قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے ایوان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "پیر پنچال” نام کا کوئی الگ خطہ وجود ہی نہیں رکھتا، جس پر ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور بی جے پی ارکان نے اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔
چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، سنیل شرما نے بحث کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر کو مہاراجہ ہری سنگھ کی میراث کے طور پر ایک "غیر منقسم اکائی” کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راجوری اور پونچھ کے اضلاع کے لیے الگ ڈویژن کا مطالبہ جموں و کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ایک سازش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاریخی طور پر یہ علاقہ ’چندر بھاگا‘ ڈویژن کہلاتا تھا اور وہ کسی بھی نئی علاقائی شناخت کو تسلیم نہیں کریں گے۔
بی جے پی کے اس سخت موقف پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ارکان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ مینڈھر سے نیشنل کانفرنس کے وزیر اور سینئر رہنما جاوید رانا نے خطے کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پیر پنچال کا ذکر مہابھارت اور راج ترنگنی جیسی قدیم کتابوں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کی شناخت سے انکار وہاں کے عوام اور 1947 میں قربانیاں دینے والے شہداء کی توہین ہے۔ جاوید رانا نے خبردار کیا کہ انتظامی معاملات میں اقلیت کو اکثریت پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
طرفین کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی، نعرے بازی اور شور شرابے کے باعث اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین نے سنیل شرما سے معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ بی جے پی کے اراکین اپنے لیڈر کی حمایت میں کھڑے ہو گئے اور بعد ازاں اسپیکر پر حکمران اتحاد کی طرفداری کا الزام لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ جموں و کشمیر میں انتظامی تقسیم اور علاقائی شناخت پر جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ راجوری اور پونچھ پر مشتمل پیر پنچال کا خطہ مشکل جغرافیائی حالات اور بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے طویل عرصے سے الگ ڈویژن کا مطالبہ کر رہا ہے، تاہم بی جے پی اسے جموں کے خطے کو کمزور کرنے کی سیاسی چال سمجھتی ہے۔
