گورنر کے اقدام پر تنقید، وجے کو دعوت کیوں نہیں؟

گورنر کے اقدام پر شدید تنقید، اپوزیشن کا احتجاج جاری

چنئی: تامل ناڈو کے گورنر <a href="/700/" title="تامل ناڈو میں سیاسی ہلچل: وجے کی TVK کی اتحادیوں کی تلاش”>آر وی ارلیکر شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹی وی کے رہنما وجے کو حکومت سازی کی دعوت دینے سے گریز کیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں، خاص طور پر وی سی کے (وِدُتھلائی چِرُتھائگال کatchi) اور بائیں بازو کی جماعتوں نے گورنر کے اس اقدام کو غیر آئینی اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ وفاقی حکومت کی جانب سے ریاست کی سیاست میں دخل اندازی اور وجے کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

خبر رساں ادارے ‘دی چناب ٹائمز’ کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، وی سی کے اور بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے گورنر کے اس فیصلے کو جمہوریت اور آئین کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ گورنر کا فرض آئین کی پاسداری کرنا اور عوام کے مینڈیٹ کی بنیاد پر حکومت کے قیام میں سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ پیدا کرنا۔

ریاست میں سیاسی ماحول ان دنوں خاصا گرم ہے، خاص طور پر گورنر کی جانب سے ٹی وی کے رہنما کو دعوت نہ دینے کے بعد سے۔ وی سی کے کے رہنما تھول تھروموالاوان نے اس معاملے پر سب سے زیادہ آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ گورنر کا ایسا رویہ جمہوری روایات اور آئینی اقدار سے انحراف ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ان کے موقف کی تائید کی ہے اور گورنر سے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے جس کا مقصد ریاست کے سیاسی منظر نامے کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گورنر، جو ریاست کے آئینی سربراہ ہیں، انہیں یا تو منتخب حکومت کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے یا پھر انہیں ایسی حکومت کے قیام میں مدد کرنی چاہیے جسے قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ دعوت نامہ روک کر گورنر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور ریاست کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے۔

یہ تنازعہ ریاستوں کے گورنروں کے کردار اور اختیارات کے بارے میں ملک گیر بحث کو مزید ہوا دے رہا ہے، بالخصوص ان ریاستوں میں جہاں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں۔ ناقدین کا اکثر یہ الزام رہا ہے کہ گورنر وفاقی حکومت کے ایما پر کام کرتے ہیں، جس سے وفاقی اصولوں اور ریاستی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔ تامل ناڈو کا موجودہ معاملہ بھی مرکزی حکومت کی جانب سے گورنروں کے ذریعے ریاستوں میں مداخلت کے مبینہ سلسلے کا ایک اور واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مذکورہ رہنماؤں نے گورنر کے دفتر سے اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں فوری وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے گورنر سے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے اور جمہوری عمل کو برقرار رکھتے ہوئے اس رہنما کو حکومت سازی کی دعوت دینے کی اپیل کی ہے جسے قانون ساز اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ وی سی کے اور بائیں بازو کی جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب جمہوری اور قانونی راستوں کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس صورتحال نے تامل ناڈو میں حکمرانی اور سیاسی استحکام پر اثرات کے بارے میں سیاسی تجزیہ کاروں اور عوام میں وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ وی سی کے اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اس موقف کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ریاستی معاملات میں مرکزی اختیار کے مبینہ تجاوز کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن محاذ تشکیل دے سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے کیونکہ متعلقہ جماعتیں گورنر کے متنازعہ فیصلے کے ردعمل میں اپنے اگلے اقدامات کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں