ممبئی کی راہیں بدلیں گی: GMLR فلائی اوور جلد، مسافروں کو آسانی ملے گی

ممبئی کی مشرقی اور مغربی علاقوں کے درمیان سفر میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے، کیونکہ گوری گاؤں-ملند لنک روڈ (GMLR) منصوبے کا پہلا فلائی اوور جلد ہی کھولا جانے والا ہے۔ یہ 1.2 کلومیٹر طویل فلائی اوور، جو کہ 14,000 کروڑ روپے کے ایک بڑے منصوبے کا اہم حصہ ہے، مئی 2026 تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس سے روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک کی شدید بندش کا شکار مسافروں کو بڑی راحت ملے گی۔

GMLR منصوبہ: ممبئی کے مسافروں کے لیے زندگی کی ایک نئی راہ

بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) کا گوری گاؤں-ملند لنک روڈ منصوبہ، ممبئی کے مغربی اور مشرقی مضافات کو جوڑنے کے لیے ایک جامع منصوبہ ہے۔ یہ 12.2 کلومیٹر طویل شاہراہ، جو مکمل ہونے کے بعد سفر کے وقت کو موجودہ 90 منٹ سے کم کر کے صرف 20-25 منٹ کرنے کا ہدف رکھتی ہے، چار مراحل میں مکمل کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مشرقی اور مغربی علاقوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا ہے۔

منصوبے کا پہلا مرحلہ 1.2 کلومیٹر طویل فلائی اوور کی تعمیر پر مشتمل ہے، جو دیندوشی کورٹ کے قریب سے شروع ہو کر سنجے گاندھی نیشنل پارک (SGNP) کی طرف جا رہا ہے۔ اس فلائی اوور میں چھ لین ہوں گی اور اس پر ایک بلند سرکلر چوراہا اور پیدل چلنے والوں کے لیے راستے بھی بنائے جائیں گے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، فلائی اوور کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، اور فاؤنڈیشن کے بہت سے ستون کھڑے کیے جا چکے ہیں اور بیم بھی نصب ہو چکے ہیں۔ بی ایم سی نے اس حصے کو 31 مئی 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، بشرطیکہ دیگر کام بھی وقت پر مکمل ہو جائیں۔

اس فلائی اوور کے کھلنے کے بعد، GMLR منصوبے کا اگلا بڑا مرحلہ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے نیچے جڑواں سرنگوں کی تعمیر ہوگا۔ یہ سرنگیں، جو انجینئرنگ کا ایک بڑا کارنامہ ہوں گی، سڑکوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ سرنگوں کی کھدائی کے لیے ٹی بی ایم (Tunnel Boring Machines) مشینوں کا استعمال کیا جائے گا، جنہیں مارچ 2026 تک لانچنگ شافٹ میں اتارا جائے گا۔ GMLR منصوبے کی مکمل تکمیل، جس میں یہ سرنگیں بھی شامل ہیں، 2028-2029 تک متوقع ہے۔

مشرقی اور مغربی مضافات کے لیے انفراسٹرکچر میں بہتری

GMLR منصوبہ صرف سفر کے وقت کو کم کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ بلکہ اس سے منسلک مضافات میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ ملند، نہور، اور گوری گاؤں ایسٹ جیسے علاقے خاص طور پر فائدہ اٹھائیں گے اور یہ تجارتی اور رہائشی مرکز کے طور پر ابھریں گے۔ بہتر رابطے سے یہ علاقے شہر کے میڈیا اور آئی ٹی شعبوں میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے زیادہ پرکشش بنیں گے، جس سے جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس منصوبے کا اثر صرف راستے تک محدود نہیں رہے گا۔ اسے ممبئی کے وسیع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں مستقبل میں ورسوا-بھایندر کوسٹل روڈ جیسے دیگر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ساتھ انضمام کا امکان ہے۔ اس مربوط انداز کا مقصد ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن میں ایک زیادہ ہموار اور موثر شہری نقل و حمل کا نظام بنانا ہے۔

تاخیر اور مستقبل کا لائحہ عمل

اگرچہ GMLR منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اسے تاخیر کا بھی سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے ٹھیکیداروں پر مقررہ وقت میں ناکامی پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ بی ایم سی نے مبینہ طور پر مرحلہ 3 میں تاخیر کی وجہ سے ٹھیکیدار پر جرمانہ عائد کیا ہے، جس کی وجہ سے منصوبے کی کچھ ڈیڈ لائنز میں تقریباً ایک سال کی تاخیر ہوئی ہے۔ ان تاخیرات کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں یوٹیلیٹی شفٹنگ، تجاوزات، اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں پیچیدگیاں شامل ہیں۔

ان چیلنج

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں