ایران کا میزائل پروگرام: امریکی رپورٹ نے سب کو حیران کر دیا

امریکی خفیہ اداروں کی تازہ رپورٹوں کے مطابق، <a href="/1010/" title="رالف لورین: امریکی فیشن کی لازوال شان”>ایران اب بھی میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی مضبوط ہے اور اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں کو چیلنج کیا ہے جن میں وہ ایران کی عسکری طاقت، خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام کو کمزور قرار دیتے تھے۔ نئے تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران کا عسکری ڈھانچہ اس سے کہیں زیادہ فعال اور مستحکم ہے جتنا پہلے سمجھا جا رہا تھا۔

"دی چناب ٹائمز” کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اپنے بیشتر میزائل لانچنگ اسٹیشنوں پر فعال رسائی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ خاص طور پر، strategically اہم آبنائے ہرمز کے قریب واقع 33 میزائل سائٹس میں سے 30 پر فوجی کارروائیوں کے لیے رسائی ممکن ہے۔ یہ انکشاف سابق صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بالکل برعکس ہے جن میں وہ ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ حال قرار دیتے تھے۔

خفیہ ایجنسیوں کی ان رپورٹس میں سیٹلائٹ امیجری اور دیگر تکنیکی ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات شامل ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق، ایران اب بھی بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو تعینات کرنے اور ان کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو کہ خلیج فارس اور خلیجِ عُمان کو ملانے والا ایک تنگ آبی راستہ ہے، عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس علاقے کے قریب ایران کے متعدد میزائل سائٹس کی موجودگی عالمی بحری سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک تشویشناک معاملہ ہے۔ ان سائٹس کی فعال حالت ایران کی جانب سے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مسلسل سرمایہ کاری اور اس کی دیکھ بھال کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ اس کی دفاعی حکمت عملی اور علاقائی اثر و رسوخ کا ایک اہم حصہ ہے۔

اگرچہ ان خفیہ رپورٹوں میں میزائلوں کی قسم یا ان کی رینج کے بارے میں مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، لیکن لانچنگ سہولیات تک فعال رسائی پر زور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران کا میزائل ذخیرہ کس حد تک تیار اور strategically تعینات ہے۔ یہ معلومات بتاتی ہیں کہ ایران نے عالمی دباؤ اور پابندیوں کو کامیابی سے نظر انداز کیا ہے یا ان کا مقابلہ کیا ہے، جن کا مقصد اس کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا تھا۔

امریکہ نے ہمیشہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث اور علاقائی اتحادیوں، بشمول اسرائیل اور سعودی عرب، کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔ اس پروگرام کو ایران کے لیے اپنی سرحدوں سے باہر طاقت اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ایک ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے، جو خطے بھر میں اس کے پراکسیز اور اتحادیوں کی حمایت کرتا ہے۔

ان میزائل سائٹس کی فعال حالت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتی ہے، اور ساتھ ہی دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں بھی اس کا اثر ہے۔ یہ انٹیلی جنس یہ بتاتی ہے کہ ایران کا عسکری ڈھانچہ اب بھی مضبوط ہے اور اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مسلسل صلاحیت ایران کے ایٹمی عدم پھیلاؤ اور علاقائی سلامتی کے انتظامات کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں پر عالمی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی ادارے اور قومی حکومتیں ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کی نگرانی کر رہی ہیں۔ انٹیلی جنس کی یہ تفصیلات مستقبل کی پالیسیوں اور ایران کی عسکری صلاحیتوں اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں اس کے کردار کے حوالے سے سفارتی مصروفیت کو متاثر کریں گی۔

ان رپورٹوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پابندیوں یا سفارتی تنہائی کے ذریعے ایران کی میزائل صلاحیتوں کو کم کرنے کی کوششیں، کم از کم اس کے میزائل انفراسٹرکچر کی فعال حالت کے حوالے سے، اپنے دیرپا اثرات حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ مستقل صلاحیت عالمی پالیسی سازوں کو ایران کے عسکری رویے اور عالمی سلامتی پر اس کے اثرات کو سنبھالنے میں درپیش پیچیدہ چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے۔ ان میزائل سائٹس کی مسلسل ترقی اور دیکھ بھال ایرانی حکومت کے لیے ایک اسٹری

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں