سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کا اثر
بدھ کے روز پورے ہندوستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ مرکزی حکومت کی جانب سے قیمتی دھاتوں پر عائد کردہ امپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ ہے۔ اس اقدام نے براہ راست ملکی مارکیٹ میں قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (MCX) پر سونے کے فیوچرز میں تقریباً 6 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 10 گرام سونے کے لیے تقریباً 1.62 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح، چاندی کے فیوچرز میں بھی 6 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا اور یہ فی کلوگرام تقریباً 2.96 لاکھ روپے پر بند ہوئے۔
قیمتوں میں یہ تیزی حکومت کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سونے اور چاندی پر عائد امپورٹ ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مالی خبروں کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد درآمدات کو محدود کرنا ہے تاکہ ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے اور ملک کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو قابو میں لایا جا سکے۔
ہندوستان سونے کا دنیا کا سب سے بڑا استعمال کنندہ ہے، اور اس کی درآمدی پالیسیوں میں کوئی بھی تبدیلی عام طور پر ملکی مارکیٹ میں قیمتوں پر فوری اور نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ بڑھائی گئی ڈیوٹی کے باعث درآمد شدہ سونا اور چاندی مہنگا ہونے کی توقع ہے، جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑے گا اور انہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
بدھ کے روز ہندوستانی روپے میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جو صبح 11 بجے کے قریب امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 95.5 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ یہ منگل کو 95.6 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر گرنے کے بعد کی صورتحال ہے۔ قومی کرنسی کو کافی دباؤ کا سامنا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مغربی ایشیاء میں جاری تنازعات سے پیدا ہونے والی عالمی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت منگل کو تقریباً 106 ڈالر فی بیرل پر بلند سطح پر رہی۔ یہ فروری کے آخر میں علاقائی کشیدگی میں اضافے سے قبل کی سطح کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، جب یہ تقریباً 78 ڈالر فی بیرل تھی۔ تیل کی مسلسل بلند قیمتیں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں اور ہندوستان کے درآمدی بل کو متاثر کرتی ہیں۔
ہندوستانی اسٹاک مارکیٹوں میں بدھ کے روز مجموعی طور پر فلیٹ کارکردگی دیکھی گئی۔ بینچ مارک سینسیکس میں 0.07 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی، جبکہ این ایس ای نفٹی میں صبح 11 بجے کے قریب 0.06 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ منگل کے روز، مارکیٹوں میں مسلسل چوتھے سیشن میں گراوٹ دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ تجزیہ کی رپورٹوں کے مطابق سرمایہ کاروں کی دولت میں 11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس میں انڈیا VIX انڈیکس، جو متوقع مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا پیمانہ ہے، 2.1 فیصد بڑھ گیا۔ یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے درمیان موجودہ معاشی اور جیو پولیٹیکل منظرنامے کے پیش نظر محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
منگل کے روز ایشیائی مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.06 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا، جنوبی کوریا کے کوسپی میں 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا، چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.3 فیصد کا اضافہ ہوا، اور جاپان کے نکی انڈیکس میں 0.8 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ علاقائی رجحانات ہندوستان میں دیکھے جانے والے مالیاتی مارکیٹ کے رجحانات کے لیے ایک وسیع تناظر فراہم کرتے ہیں۔
