ایران کے وزیر خارجہ، محمد جواد ظریف، نے حال ہی میں نئی دہلی میں منعقدہ ایک اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ مغرب ایشیا کے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں ہندوستان ایک زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس پیچیدہ علاقے کو درپیش مسائل کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔
ظریف، جو کہ برکس ممالک کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان میں موجود ہیں، نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے تمام بحری جہازوں کے محفوظ گزر کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری بحرانوں کا کوئی بھی حل باہمی مفاہمت اور بات چیت سے ہی نکلے گا اور ایران ہندوستان کی جانب سے کسی بھی تعمیری شمولیت کے لیے تیار ہے۔
امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، ظریف نے کہا کہ ان میں اعتماد کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایران کو امریکی عزائم پر شک کرنے کی کئی وجوہات ہیں، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خود امریکیوں کو بھی ایران پر اعتماد کرنے کی بنیادیں موجود ہیں۔ وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ابھی تک ان کوششوں کو ناکام نہیں کہا جا سکتا۔
اس موقع پر، ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہو۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغرب ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی قوتیں تنازعات کو کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
برکس اجلاس نے ایرانی وزیر خارجہ کو دیگر بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے نمائندوں سے ملاقات اور مختلف بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک اہم علاقائی طاقت اور برکس کے رکن کے طور پر، ایران ہندوستان کو مغرب ایشیا کے اس اسٹریٹجک لحاظ سے اہم خطے میں بات چیت کو فروغ دینے اور مزید تنازعات کو بڑھنے سے روکنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے تیل کی سپلائی کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اس کی سلامتی بین الاقوامی تجارت اور معاشی استحکام کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے بحری جہازوں کے گزر کی یقین دہانی اور ہندوستان کے لیے زیادہ کردار کی اپیل، خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے سفارتی پہلوؤں اور پیچیدہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
برکس جیسے فورمز پر ہونے والے مذاکرات اور سفارتی سرگرمیاں، مغرب ایشیا کی جیو پولیٹکس کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ایران کا موقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود فوجی تصادم کے بجائے سفارتی انداز اور مذاکرات کے ذریعے نتائج کو ترجیح دیتا ہے۔ جیسا کہ ظریف نے اشارہ دیا، ہندوستان کا ممکنہ کردار بات چیت کے راستے ہموار کرنے اور تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہو سکتا ہے، جس کے لیے وہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات اور اثر و رسوخ کو استعمال کر سکتا ہے۔
