مہاراشٹر کے ضلع ستارہ میں ایک سابقہ جے سی بی آپریٹر نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے، اور صوبے میں سیب کے پہلے کامیاب باغ کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ بپو عرف راجو بھلارے نامی اس کسان نے صرف دو ایکڑ زمین پر سیب کی کاشت کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیب صرف شمالی ہندوستان کے ٹھنڈے علاقوں تک ہی محدود نہیں ہیں۔
ایک انوکھا خواب حقیقت بن گیا
"دی چناب ٹائمز” کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بپو بھلارے کا سیب کی کاشت کی طرف سفر ایک غیر متوقع موڑ تھا۔ وہ ایک جے سی بی آپریٹر کے طور پر کشمیر گئے تھے جہاں انہوں نے سیب کے باغات دیکھے۔ وہاں کے موسم اور مہاراشٹر کے پنچگنی اور مہابلیشور کے علاقوں، جنہیں "منی کشمیر” بھی کہا جاتا ہے، کے موسم میں انہیں مماثلت نظر آئی۔ حالانکہ یہ علاقے اسٹرابیری کی کاشت کے لیے مشہور تھے، بھلارے نے سیب کی کاشت کا خواب دیکھا، جو اب حقیقت بن چکا ہے۔
مئی 2024 میں، بھلارے نے شملہ سے لائے گئے "اَنا” قسم کے تقریباً 600 پودے اپنے دو ایکڑ کے فارم میں لگائے۔ انہوں نے نامیاتی کھاد کے طور پر گائے کے گوبر کا استعمال کرتے ہوئے زمین کو بخوبی تیار کیا، پرندوں سے بچاؤ کے لیے جال لگائے اور پانی کا باقاعدہ انتظام کیا۔ ابتدائی مراحل میں موسم کی سختیوں جیسی مشکلات پیش آئیں، لیکن بھلارے کے عزم اور مکمل تیاری نے مثبت نتائج دیئے۔
غیر معمولی پیداوار اور مستقبل کی امیدیں
اب یہ باغ سال میں دو بار فصل دیتا ہے، جو اپریل-مئی اور نومبر-دسمبر کے مہینوں میں آتی ہے۔ بھلارے نے بتایا کہ پہلے سالانہ فصل میں ہر درخت سے اوسطاً 10 سے 15 کلو گرام سیب حاصل ہوئے، جن کی قیمت تقریباً 200 روپے فی کلو گرام رہی۔ اس کامیابی نے نہ صرف علاقے میں ایک نئی اور منافع بخش کاشت کاری کا ماڈل متعارف کرایا ہے بلکہ مقامی افسران اور دیگر کسانوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس باغ کو قائم کرنے میں 3 لاکھ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
مہاراشٹر کا ضلع ستارہ پھلوں کی کاشت کے حوالے سے تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ضلع میں تقریباً 7,000 ہیکٹر رقبے پر 40 سے زائد اقسام کے پھل اگائے جاتے ہیں۔ انار کا رقبہ سب سے زیادہ ہے، لیکن آم، شریفہ اور امرود جیسے پھل بھی بڑے پیمانے پر کاشت کیے جاتے ہیں۔ ضلع کا موافق موسم اور زرخیز زمین اسے باغبانی کے لیے ایک اہم علاقہ بناتی ہے، اور کچھ گاؤں کو "پھلوں کے گاؤں” کا درجہ بھی حاصل ہے۔ اسٹرابیری کی کاشت والے علاقوں میں ایگرو ٹورزم (زراعت پر مبنی سیاحت) میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ستارہ جیسی جگہ پر، جہاں روایتی طور پر سیب کی کاشت نہیں ہوتی، بھلارے کے سیب کے باغ کی یہ کامیابی ہندوستان میں زرعی جدت اور تنوع کے امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ محتاط تحقیق، منصوبہ بندی اور ثابت قدمی کے ساتھ، فصلوں کو مختلف موسمی حالات کے مطابق ڈھالنا ممکن ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کسان کے لیے اقتصادی مواقع فراہم کرتا ہے بلکہ مہاراشٹر اور اس سے آگے زرعی ترقی کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کرتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عزم اور درست انداز فکر کے ساتھ، ناممکن نظر آنے والے زرعی کارنامے بھی سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔
