اڈوپی میں کار کی زد میں آکر 12 سالہ لڑکے کی موت

اُڈوپی: ایک 12 سالہ بچہ، عبدالرحمٰن، بدقسمتی سے ایک تیز رفتار کار کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا۔ یہ دل خراش واقعہ 15 مئی 2026 کو کرناٹک کے اُڈوپی تعلقہ کے علاقے نَیزر میں جوتی نگر کے قریب پیش آیا۔ مرحوم عبدالرحمٰن، جو ایک سرکاری اسکول کے چھٹے جماعت کا طالب علم تھا، اپنے گھر کو لوٹ رہا تھا جب یہ حادثہ رونما ہوا۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، عبدالرحمٰن سڑک پار کر رہا تھا کہ اچانک ایک تیز رفتار کار اس سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بچہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گیا۔ آس پاس موجود لوگوں نے فوری طور پر اسے اُڈوپی کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا، لیکن بدقسمتی سے ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب عبدالرحمٰن کی والدہ، مسرّت، جو سلیحات پی یو کالج میں لیکچرار ہیں، اپنے دو بچوں کے ہمراہ اسکول سے درسی کتب لے کر گھر لوٹ رہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، کار بہت تیز رفتاری سے آ رہی تھی اور یہ حادثہ نَیزر کی عائشہ مسجد کے قریب پیش آیا۔

مرحوم عبدالرحمٰن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سلیحات ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کا ایک ہونہار اور ذہین طالب علم تھا۔ اس کی ناگہانی موت پر ادارے کے منتظمین، اساتذہ اور ہم جماعتوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نَیزر کی پوری کمیونٹی اس صدمے سے دوچار ہے۔

عبدالرحمٰن اپنے والدین، ایک بھائی اور دو بہنوں کو سوگوار چھوڑ کر داغِ مفارقت دے گیا۔ ان کا خاندان آدَرش نگر، نَیزر میں رہائش پذیر تھا۔

مقامی پولیس، یعنی مالپے اسٹیشن، نے اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا اس حادثے میں کسی قسم کی غفلت برتی گئی تھی۔ گاڑی کی رفتار اور ڈرائیونگ کے انداز سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس المناک واقعے نے سڑکوں پر حفاظت کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ علاقے کے رہائشی سڑکوں پر رفتار کی حد بندی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس علاقے میں اسپیڈ کیمرے نصب کریں اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کریں۔ یہ حادثہ ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں دونوں کے لیے ایک دردناک یاد دہانی ہے کہ انہیں سڑکوں پر زیادہ احتیاط اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے جان لیوا واقعات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں