وزیر اعلیٰ کا رُکن اسمبلی کے والد کے انتقال پر اظہارِ افسوس

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رکن پارلیمان انجینئر رشید کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ خضیر محمد شیخ، جو 85 برس کے تھے، دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

"دی چناب ٹائمز” کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، انتقال سے قبل مرحوم زیر علاج تھے۔ وہ 85 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

وزیر اعلیٰ عبداللہ نے مرحوم کے اہل خانہ، جن میں رکن پارلیمان انجینئر رشید اور ایم ایل اے خورشید احمد شیخ بھی شامل ہیں، سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کے لیے ایصال ثواب کی دعا کی اور لواحقین سے صبر و استقامت کی اپیل کی۔

خضیر محمد شیخ کی زندگی آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تھی۔ ان کی طویل علالت کے باعث انہیں قومی دارالحکومت کے ایک خصوصی طبی ادارے میں زیر علاج رکھا گیا تھا۔ ان کی وفات کی خبر پر خطے کے مختلف سیاسی شخصیات اور شہریوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، جو ان کے خاندان کے لیے عزت و احترام کو ظاہر کرتا ہے۔

بارہمولہ کے حلقے سے منتخب ہونے والے نمایاں رکن پارلیمان انجینئر رشید اور ان کے بھائی، ایم ایل اے خورشید احمد شیخ، جموں و کشمیر کی سیاسی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ ان کے والد کا انتقال ان کے اور ان کے وسیع خاندان کے لیے ایک بڑا ذاتی سانحہ ہے۔

دہلی کا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) ایک ممتاز طبی ادارہ ہے، اور مرحوم شیخ کا وہاں طویل علاج ان کی بیماری کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اہل خانہ ان کی طبی نگہداشت کے دوران ان کے ساتھ رہے۔

ملک کی مختلف شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جو اس نقصان کے وسیع اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور ساتھیوں نے عوامی زندگی میں انجینئر رشید اور خورشید احمد شیخ کی خدمات کو سراہا ہے اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ توقع ہے کہ وسیع خاندان اور برادری بھی فوری طور پر غمزدہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہو کر انہیں تسلی اور مدد فراہم کرے گی۔

مرحوم کی 85 سالہ عمر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہوں نے خطے اور ملک میں ہونے والی نمایاں تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے قریبی خاندان کے لیے بلکہ ان کے وسیع سماجی اور سیاسی حلقوں کے لیے بھی ایک نقصان ہے۔

وزیر اعلیٰ عبداللہ کے بیان میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ذاتی سانحات کے دوران ہمدردی کا اظہار کرنے کے روایتی رواج پر زور دیا گیا ہے، جو خطے کے اندر سماجی اور فرقہ وارانہ بندھنوں کو مضبوط کرتا ہے۔ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی اپیل گہری ثقافتی اور مذہبی احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔

طویل علالت کی مخصوص نوعیت ابتدائی رپورٹس میں واضح نہیں کی گئی تھی، لیکن AIIMS میں کیے گئے علاج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی حالت تھی جس میں جدید طبی مداخلت کی ضرورت تھی۔ ان کے علاج کی مدت ان کے اہل خانہ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

جموں و کشمیر کی سیاسی فضا میں مختلف پارٹیوں کے لوگ ذاتی مشکلات کے دوران باہمی احترام کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا بروقت تعزیتی پیغام اس رواج کی یاد دہانی کراتا ہے۔

نماز جنازہ کے انتظامات یا کسی خاص تعزیتی تقریب کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ توقع ہے کہ اہل خانہ روایتی طور پر جلد ہی اعلان کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں