تمل ناڈو میں غیر ملکی ووٹروں کی جانب سے انتخابی دھوکہ دہی کے الزامات، تحقیقات کا دائرہ وسیع
تمل ناڈو میں حکام نے حال ہی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مبینہ طور پر ووٹ ڈالنے والے تقریباً 30 غیر ملکی افراد کی ‘اوورسیز سٹیزن آف انڈیا’ (OCI) حیثیت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدام انتخابی عمل کی شفافیت پر پڑنے والے گہرے اثرات اور اس سلسلے میں ہونے والی سنگین پیش رفت کا واضح اشارہ ہے۔ ‘دی چناب ٹائمز’ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، یہ افراد جو OCI کا درجہ رکھتے ہیں، ان سے یہ دریافت کیا جا رہا ہے کہ آیا انہوں نے اپنے OCI کارڈ کے حصول کے لیے درخواست کے وقت جھوٹے بیانات تو نہیں دیے تھے۔ OCI درخواست کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ درخواست گزار کو یہ تصدیق کرنا ہوتی ہے کہ اس نے اپنا ہندوستانی ووٹر شناختی کارڈ سرنڈر کر دیا ہے یا انتخابی فہرستوں سے اپنا نام حذف کروا دیا ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ان ملوث افراد کے ان بیانات کو غلط قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ہندوستانی انتخابات میں OCI کارڈ ہولڈرز کی اہلیت اور ان کے بیانات کے طریقہ کار پر گہری نظر ڈالنے پر مجبور کر رہی ہے۔ OCI اسکیم کا مقصد ان افراد کے لیے ہے جو ہندوستانی نژاد ہیں اور جنہوں نے غیر ملکی شہریت حاصل کر لی ہے۔ یہ اسکیم انہیں ہندوستانی شہریوں کے برابر کچھ مراعات فراہم کرتی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ انہیں ووٹ ڈالنے جیسے سیاسی حقوق نہیں دیتی۔ ہندوستانی قانون کے تحت، وہ افراد جو ہندوستانی شہری نہیں ہیں، انہیں ملک کے انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے۔ OCI کارڈ ہولڈرز کی جانب سے مبینہ طور پر کی گئی دھوکہ دہی، اگر ثابت ہو جاتی ہے، تو یہ انتخابی قوانین اور امیگریشن کے ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ معاملے سے واقف حکام کے مطابق، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ تحقیقات خفیہ اطلاعات اور انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال پر مبنی ہیں، جن میں تضادات سامنے آئے ہیں۔ جن افراد کے نام مشتبہ طور پر غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں، ان کی OCI درخواست کی تفصیلات سے باہمی موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اصل تنازعہ اس بات پر ہے کہ آیا انہوں نے OCI حیثیت حاصل کرنے سے پہلے ہندوستان میں اپنی ووٹر کی حیثیت کے بارے میں درست بیانات دیے تھے۔ یہ صورتحال OCI درخواستوں پر حکام کی جانب سے کی جانے والی جانچ پڑتال اور OCI کارڈ ہولڈرز کی جانب سے اپنی حیثیت کی شرائط کی پابندی کی نگرانی پر وسیع سوالات اٹھا رہی ہے۔ وزارت داخلہ اور ہندوستانی الیکشن کمیشن سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لیں گے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ OCI کارڈ کی درخواست کے دوران جھوٹا بیان دینے پر OCI حیثیت منسوخ کی جا سکتی ہے اور ہندوستانی تعزیرات ہند اور شہریت ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ جرمانے اور قید کی سزا کے علاوہ، ان کے OCI کارڈ بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ اس تحقیقات کا مقصد مبینہ دھوکہ دہی کے پیمانے کا تعین کرنا اور کسی بھی ایسی نظاماتی کمزوری کی نشاندہی کرنا ہے جو غیر شہریوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقع فراہم کر سکتی تھی۔ اس انکوائری کے نتائج سے OCI درخواستوں کی تصدیق کے سخت اقدامات اور ہندوستان میں OCI کارڈ ہولڈرز کی سرگرمیوں کی زیادہ قریبی نگرانی کی توقع ہے۔ تمل ناڈو کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انتخابی حکام ان افراد کے ووٹ ڈالنے اور انہیں قبول کرنے کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں، اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کیا پولنگ اسٹیشن کی سطح پر کوئی غلطی ہوئی تھی۔ اگرچہ ان افراد کی مبینہ شرکت سے متاثر ہونے والے ووٹوں کی صحیح تعداد کا تعین ہونا باقی ہے، لیکن انتخابی حکام اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ یہ کیس انتخابی عمل کی تقدس کو برقرار رکھنے اور یہ یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندوستان کے جمہوری انتخابات میں صرف اہل شہری ہی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔
