پُٹاپارتھی کو پانی، 136 کروڑ کا منصوبہ، خوشحالی کی راہ۔

آندھرا پردیش کے پُٹاپارتھی میں 136 کروڑ کا پینے کے پانی کا منصوبہ شروع

آندھرا پردیش کے پُٹاپارتھی حلقے میں ایک اہم اور عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت 136 کروڑ روپے کی لاگت سے پینے کے صاف اور وافر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ منصوبہ علاقے میں پانی کی قلت کے دیرینہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

یہ اقدام خطے میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور پُٹاپارتھی اور آس پاس کے علاقوں کے مکینوں کے لیے پینے کے قابل پانی کی رسائی کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کا حصہ ہے۔ منصوبے کے تحت کن مخصوص دیہاتوں کو شامل کیا جائے گا اور اسے کب تک مکمل کیا جائے گا، اس بارے میں تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔ مقامی حکام نے اس پیش رفت کی فوری ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے۔

اس سے قبل بھی سری ستیا سائی سنٹرل ٹرسٹ نے اننت پور ضلع، جس میں پُٹاپارتھی بھی شامل ہے، میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2013 میں، 80 کروڑ روپے کے ایک منصوبے کے تحت بکاپٹنم، کوتھاجیروو اور پُٹاپارتھی منڈلوں کے 118 دیہاتوں کو صاف کیا ہوا پینے کا پانی فراہم کیا گیا تھا۔ اس پرانے منصوبے میں چترواٹی بیلنسنگ ریزروائر سے پانی حاصل کیا گیا تھا اور ڈھائی لاکھ کی آبادی کے لیے 411 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھائی گئی تھیں۔

ضلع اننت پور میں سری ستیا سائی سنٹرل ٹرسٹ کا پانی کے انتظام کے شعبے میں کام 1990 کی دہائی کے وسط سے جاری ہے۔ 1995 میں شروع ہونے والا ایک اہم منصوبہ خشک سالی سے متاثرہ دیہاتوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے تھا۔ اس کے تحت 2,000 کلومیٹر سے زائد پائپ لائنیں بچھائی گئیں اور متعدد ٹینکیوں اور اوور ہیڈ ٹینکوں کی تعمیر کی گئی۔ اس منصوبے سے 731 دیہاتوں میں تقریباً دس لاکھ افراد کو فائدہ پہنچا تھا، جسے حکومت ہند نے بھی سراہا تھا اور نویں پنچ سالہ منصوبے میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ ماضی کی کوششیں اس علاقے کے خشک آب و ہوا اور زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے مستقل چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہیں، جن میں اکثر فلورائیڈ کی آلودگی سے صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔ سری ستیا سائی کے منصوبے ان مسائل کو کم کرنے میں بہت اہم رہے ہیں، خاص طور پر جب زیر زمین پانی کم یا استعمال کے قابل نہ ہوتا۔

نئے شروع کیے گئے 136 کروڑ روپے کے منصوبے سے پانی کی فراہمی کے نظام میں مزید بہتری کی توقع ہے، جس میں ممکنہ طور پر جدید ترین پانی صاف کرنے کے طریقے اور وسیع تر تقسیم کا نیٹ ورک شامل ہو سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی تک رسائی ممکن ہو سکے اور پانی کی دستیابی میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ اس سرمایہ کاری کا پیمانہ علاقے میں پانی کی سلامتی کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی نشاندہی کرتا ہے، جو دیہی ترقی اور عوامی صحت پر ریاستی حکومت کے توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔

منصوبے کے دائرہ کار، اسے نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور مخصوص مستفید افراد کے بارے میں مزید تفصیلات منصوبے کی پیش رفت کے ساتھ فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے رہائشیوں کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری کی توقع ہے، کیونکہ انہیں پینے کے پانی کا ایک قابل اعتماد اور محفوظ ذریعہ میسر آئے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں