جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ یہ آپریشن گذشتہ ہفتے کے روز صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب شروع ہوا جب سیکورٹی فورسز کو علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، راجوری کے گمبھیر موگلان علاقے میں مسلح افواج اور عسکریت پسندوں کے درمیان یہ مسلح تصادم اس وقت شروع ہوا جب جموں و کشمیر پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ ابتدائی رابطے کے بعد، دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ آپریشن تاحال جاری ہے اور حکام عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی احتیاط برت رہے ہیں۔
راجوری ضلع، جو پیر پنچال پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، حالیہ برسوں میں سیکورٹی آپریشنز کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ ماضی میں بھی اس علاقے میں عسکریت پسندی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، اور سیکورٹی فورسز کسی بھی قسم کی سرگرمی کو روکنے کے لیے مسلسل الرٹ رہتی ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی مسلح فورسز کی جانب سے مشترکہ آپریشنز اس طرح کے سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک معمول کی حکمت عملی ہے۔
اس آپریشن کے پیچھے جو خفیہ اطلاع تھی، وہ کافی عرصے سے جمع کی جا رہی تھی، جو یونین ٹیریٹری میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔ راجوری جیسے اضلاع کے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے باعث اکثر طویل اور پیچیدہ آپریشنز کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سیکورٹی حکام نے عوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے، کیونکہ بروقت معلومات کی فراہمی ایسے آپریشنز کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس تصادم میں ملوث عسکریت پسند گروپ یا افراد کی ابھی تک کوئی شناخت نہیں ہو سکی ہے، اور آپریشن کے آگے بڑھنے کے ساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ علاقے میں سیکورٹی کے انتظامات کو حالیہ مہینوں میں عسکریت پسندوں کی ممکنہ بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر مزید سخت کیا گیا ہے۔ گمبھیر موگلان علاقے میں عسکریت پسندوں کو کامیابی سے محدود کرنا مشترکہ سیکورٹی کے موثر کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ واقعہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کے خاتمے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک وسیع تر سیکورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مکمل خفیہ معلومات جمع کرنے، فوری کارروائی اور احتیاطی منصوبہ بندی پر زور دیا جا رہا ہے۔ حکام صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور جاری سیکورٹی آپریشنز کے دوران معلومات کی تقسیم کے طے شدہ پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے اپ ڈیٹس جاری کرتے رہیں گے۔
