گرمی کا عذاب: ماہرین نے کیا خبردار؟

گرمیوں کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی، طبی ماہرین نے شدید گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پانی کے وافر استعمال اور اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بیماریاں انسانی جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

‘دی چناب ٹائمز’ کو معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں ‘دی ہندو’ کی جانب سے منعقدہ ایک ویبینار میں، ماہرین کی ایک ٹیم نے شدید گرمی کے طویل مدتی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انسانی جسم کے قدرتی طور پر درجہ حرارت کو معمول پر لانے کے نظام شدید گرمی کے سامنے بے بس ہو سکتے ہیں، اور اس لیے افراد کو اپنی صحت کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے اس ویبینار میں معروف طبی پیشہ ور افراد اور عوامی صحت کے کارکنان نے شدید گرمی اور اس سے جڑے صحت کے خطرات کے بڑھتے ہوئے خدشات کو دور کرنے کے لیے شرکت کی۔ شرکا کو ہیٹ ایگزاسشن (حرارت سے تھکاوٹ) اور ہیٹ اسٹروک (گرمی کا دورہ) کی ابتدائی علامات اور ان کے ظہور پر فوری طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کی کمی ان بیماریوں کا بنیادی سبب ہے، لہذا خاص طور پر بزرگ، شیر خوار بچے اور پہلے سے موجود بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے دن بھر پانی کا باقاعدگی سے استعمال انتہائی اہم ہے۔

چند اہم تجاویز میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پیاس لگنا اکثر پانی کی کمی کی تاخیر سے ظاہر ہونے والی علامت ہے۔ اس لیے افراد کو پیاس لگنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا چاہیے۔ دن بھر میں تھوڑی تھوڑی مقدار میں پانی پینا، ایک ساتھ زیادہ مقدار میں پانی پینے سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔ جو لوگ محنت مشقت والے کام کرتے ہیں یا باہر کھلی دھوپ میں کام کرتے ہیں، ان کے لیے پانی کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پینے والے سیال کا انتخاب بھی اہمیت رکھتا ہے؛ اگرچہ پانی سب سے بہترین ہے، لیکن شدید گرمی میں طویل عرصے تک کام کرنے والے افراد کے لیے الیکٹرولائٹ سے بھرپور مشروبات جسم میں ضائع ہونے والے نمکیات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

شعور اجاگر کرنے میں ماحولیاتی خطرات کو پہچاننا بھی شامل ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک کے گرم ترین اوقات میں باہر کی سرگرمیاں محدود کر دی جائیں۔ جب باہر جانا ناگزیر ہو تو ہلکے رنگ کے، ہوادار اور ڈھیلے کپڑے پہننے کا مشورہ دیا گیا تاکہ جلد سانس لے سکے اور گرمی جذب کم ہو۔ ٹوپی اور دھوپ کا چشمہ براہ راست سورج کی روشنی سے اضافی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

اس گفتگو میں کام کی جگہوں پر گرمی کے اثرات پر بھی بات کی گئی، خاص طور پر ان کارکنان کے لیے جو باہر کام کرتے ہیں یا ایسے صنعتی شعبوں میں جہاں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ آجروں (مالکان) پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے پالیسیاں اپنائیں جن کے تحت ٹھنڈی جگہوں پر مناسب آرام کے وقفے دیے جائیں اور پینے کے لیے وافر پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ کام کی جگہوں پر پنکھے، ہوا کا بہتر انتظام اور واٹر مسٹنگ سسٹم جیسے سادہ اقدامات بھی ملازمین میں گرمی کے تناؤ کے خطرے کو کم کرنے میں نمایاں فرق لا سکتے ہیں۔

مزید برآں، ویبینار میں گرمی سے متعلقہ بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کے باہمی تعلق پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ دل کی بیماری، ذیابیطس یا گردے کے مسائل جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے شدید گرمی ان کی موجودہ بیماریوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے افراد شدید گرمی کے دوران اضافی احتیاط کریں، اپنے طبی مشوروں پر سختی سے عمل کریں اور اپنے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد سے باقاعدہ رابطے میں رہیں۔

گرمی کی تیاری کے حوالے سے عوامی صحت کے پیغامات بھی ایک اہم نقطہ تھے۔ ماہرین نے تجویز دی کہ کمیونٹیز کو ایسے افراد کے لیے معاون نظام قائم کرنے چاہئیں جو زیادہ خطرے میں ہو سکتے ہیں، جیسے کہ بزرگ پڑوسیوں کی خبر گیری کرنا یا ایسے افراد کے لیے ٹھنڈے مقامات تک رسائی کو یقینی بنانا جن کے گھروں میں مناسب ایئر کنڈیشنگ کی سہولت

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں