بنگلور میں آٹھ روز میں تیسری بار پیٹرولیم مصنوعات مہنگی، ٹرانسپورٹ سیکٹر تشویش میں
بنگلور: شہر بنگلور میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے، جو گذشتہ آٹھ روز کے دوران تیسرا اضافہ ہے۔ ہفتہ 23 مئی 2026 کو، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں نے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 108.09 روپے اور ڈیزل کی قیمت 95.99 روپے کر دی ہے۔ اس حالیہ اضافے کے نتیجے میں تمام پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں اوسطاً 90 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔
دی چناب ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، تیل کمپنیوں نے اس سے قبل 15 مئی 2026 کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا، جس کے بعد 19 مئی 2026 کو مزید 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ گذشتہ آٹھ روز میں ان مسلسل اضافوں کے باعث پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔
بنگلور میں ٹرانسپورٹ سیکٹر نے ایندھن کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے مختلف کاروباروں پر پڑنے والے اثرات سے خبردار کیا ہے۔ صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کو جذب کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے اور بالآخر یہ بوجھ صارفین پر ہی منتقل ہوگا۔ یہی احساس کرناٹک میں نجی بس آپریٹرز نے بھی ظاہر کیا ہے، جنہوں نے 15 مئی 2026 کی آدھی رات سے کرایوں میں 20 سے 30 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، بھاری روڈ ٹیکس اور "شکتی سکیم” (سرکاری بسوں میں خواتین کے لیے مفت سفر) کے اثرات نے کرایوں میں نظر ثانی کو ناگزیر بنا دیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹوں میں توانائی کی بلند قیمتیں ہیں، جن میں مغربی ایشیا میں جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد سپلائی کے خدشات نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دی ہندو اور ڈیکن ہیرالڈ کی رپورٹس کے مطابق، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں ان عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان اٹھا رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، مئی 2026 کے وسط تک یہ کمپنیاں روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کر رہی تھیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ان نقصانات کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملک گیر سطح پر ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو کئی بڑے شہروں میں پیٹرول کی قیمتیں 100 روپے فی لیٹر یا اس سے اوپر جا پہنچی ہیں۔ 23 مئی 2026 تک، میٹرو شہروں میں کولکتہ میں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ 110.64 روپے فی لیٹر تھی، اس کے بعد ممبئی میں 108.49 روپے اور چنئی میں 105.31 روپے فی لیٹر تھی۔ بنگلور میں موجودہ قیمتیں اسے ایندھن کے معاملے میں سب سے مہنگے شہروں میں شامل کرتی ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے ان اضافوں نے دیگر ٹرانسپورٹ سیکٹرز کو بھی متاثر کیا ہے۔ دی ساؤتھ فرسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اسکول گاڑیوں کے کرایوں میں 10 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اوبر اور اول جیسی کیب ایگریگیٹر سروسز کے کرایوں میں ممکنہ نظر ثانی پر بھی بات چیت جاری ہے، اور ڈرائیور ایسوسی ایشنز اس معاملے پر غور کے لیے ملاقاتیں کرنے والی ہیں۔
بنگلور کی موجودہ صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور اس کے ملکی ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے باعث صارفین اور کاروباروں کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے اضافے بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جاتے ہیں، جو گھریلو بجٹ اور ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی آپریشنل استعداد پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہ مسلسل اضافے ہندوستانی معیشت کے عالمی تیل
