سرینگر، 15 نومبر — سرینگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں جمعہ کی رات اس وقت خوفناک دھماکہ ہوا جب اہلکار فریدآباد سے پکڑے گئے تین ہزار کلوگرام امونیم نائٹریٹ اور دیگر مواد کی نمونہ کشی کر رہے تھے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حادثے میں کم از کم نو افراد جان سے گئے جبکہ 29 زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں پولیس اہلکار، فارینزک سائنس لیب کے ماہرین اور سرینگر انتظامیہ کے دو افسر شامل ہیں۔
دھماکہ رات تقریباً ساڑھے دس بجے اس وقت ہوا جب پولیس اور ایف ایس ایل ٹیم اسٹیشن کے اندر ذخیرہ شدہ مواد سے نمونے الگ کرنے میں مصروف تھی۔ جھٹکے کی شدت اتنی تھی کہ عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا، کئی گاڑیاں تباہ ہوئیں اور اندر موجود دھماکہ خیز اجزاء میں ثانوی دھماکے بھی ہوئے۔ علاقے کو فوراً سیل کرکے پولیس، فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے تلاشی آپریشن شروع کیا، جس میں اسنیفر ڈاگز بھی لگائے گئے۔
زخمیوں کو آرمی کے 92 بیس اسپتال اور ایس کے آئی ایم ایس منتقل کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو نے اسپتالوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی حتمی وجہ پر رائے دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ مواد کے اندرونی ردعمل کے دوران اچانک شدید حرارت پیدا ہوئی۔
یہی پولیس اسٹیشن 19 اکتوبر کو علاقے میں لگائے گئے جیشِ محمد کے دھمکی آمیز پوسٹروں کی تفتیش کر رہا تھا۔ سی سی ٹی وی اور الیکٹرانک نگرانی کی مدد سے پولیس نے ابتدائی گرفتاریاں کیں جن میں ارف نثار ڈار، یاسر الاشرف اور مقصود احمد ڈار شامل تھے۔ تفتیش نے بعد میں ایک "وہائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک” کو بے نقاب کیا جس میں پیشہ ور افراد پاکستان سے منسلک آن لائن ہینڈلرز کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل کیے جا رہے تھے۔
اسی سلسلے میں 27 اکتوبر کو ڈاکٹر عدیل احمد راتھر کو سرکاری میڈیکل کالج اننت ناگ سے گرفتار کیا گیا، جن کے پاس سے ایک رائفل بھی برآمد ہوئی۔ ان کے بیان پر تحقیقات فریدآباد میں زیرِ تعلیم ڈاکٹر مزمل شکیل عرف مزمل گنائی تک پہنچیں، جہاں 5 نومبر کو بڑی مقدار میں بارودی مواد، ٹائمرز، الیکٹرانک سرکٹ اور میٹل شیٹس برآمد ہوئیں۔ ڈاکٹر شاہین سعید کو بھی اسی روز گرفتار کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ 10 نومبر کو دہلی کے لال قلعے کے قریب کار بم دھماکے — جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے — میں اسی گروہ کے کچھ اراکین کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ پولیس کے مطابق ہنڈائی آئی 20 گاڑی ڈاکٹر عمر نبی چلا رہا تھا۔ ابتدائی رائے یہ ہے کہ دہلی دھماکہ ایک کمزور طریقے سے تیار شدہ آئی ای ڈی کی وجہ سے ہوا، ممکنہ طور پر فریدآباد میں پکڑے جانے کے بعد گھبراہٹ میں بنایا گیا۔
مرکزی کرداروں میں مزمل گنائی، عمر نبی اور فرار ڈاکٹر مظفر راتھر شامل بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر عدیل راتھر کے کردار کی الگ سے جانچ جاری ہے۔ این آئی اے اس پورے سلسلے کی وسیع تفتیش میں شامل ہے۔
مزید ہلاکتوں یا تحقیقات کے متعلق کوئی نیا سرکاری بیان آخری اطلاعات تک موصول نہیں ہوا۔
