جموں؍؍لیبر کمشنر جموں و کشمیر کی زیرِ صدارت شرم بھون جموں میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، لائسنسنگ کے طریقہ کار اور کاروباری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں جموں ضلع کے نمایاں تجارتی و صنعتی اداروں بشمول کے سی پلازہ، ویونتا، مووی ٹائم، والمارٹ، جیو اور بلنک اٹ کے نمائندگان، ایچ آر منیجرز اور جنرل منیجرز نے شرکت کی۔ انہوں نے رجسٹریشن، لائسنسنگ، معائنہ اور ضابطہ عمل کے حوالے سے اپنے عملی تجربات اور مشکلات سے محکمہ کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ لائسنسنگ کے طریقہ کار کو سہل اور شفاف بنایا جائے، محکموں کے مابین بہتر ربط و ضبط قائم کیا جائے اور کاروباری طبقے کو غیر ضروری پیچیدگیوں سے نجات دلائی جائے تاکہ صنعتی ترقی کو مہمیز ملے۔
واضح رہے کہ لیبر کمشنر کو بزنس ریفارم ایکشن پلان (بی آر اے پی) کے تحت لیبر و ایمپلائمنٹ ڈپارٹمنٹ کا نوڈل آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔ اس ذمہ داری کے تحت وہ اصلاحاتی اقدامات کی نگرانی، بین المحکماتی ہم آہنگی اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں گے۔
شرکاء نے محکمے کے مشاورتی اور شراکتی انداز کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اجلاس زمینی حقائق کو سمجھنے اور پالیسی سازی میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اجلاس میں ڈپٹی لیبر کمشنر جموں شکپل سنگھ، اسسٹنٹ لیبر کمشنر روپالی جسروٹیا اور روپالی گندوترا سمیت محکمے کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
لیبر کمشنر نے اختتام پر واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ ایک طرف سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے موافق فضا ہموار کی جائے اور دوسری طرف محنت کشوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کو ہر حال میں محفوظ رکھا جائے۔
