دھوکے باز گرفتار: شندے کا افسر بننے والا جعلساز پکڑا گیا

**دھوکے باز کا انکشاف: وزیراعلیٰ شندے کے خصوصی افسر بن کر جعل سازی کرنے والا شخص گرفتار**

پونے: مہاراشٹر میں ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جو وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کے ‘خصوصی فرائض کے افسر’ (OSD) ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے حکومتی معاملات میں مداخلت کی کوشش کر رہا تھا۔ پونے پولیس نے اس شخص کو دھر لیا ہے جس کی شناخت 42 سالہ راہول کرن جکار کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ شخص سرکاری سطح پر پہنچ حاصل کرنے اور ذاتی مفاد کے لیے غلط شناخت کا استعمال کر رہا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعلیٰ کے دفتر (CMO) کو ایک شخص کی جانب سے خود کو OSD ظاہر کرنے کے بارے میں اطلاع ملی۔ دفتر کی جانب سے ابتدائی چھان بین کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ دعویٰ کرنے والا شخص وزیراعلیٰ کے عملے کا حصہ نہیں ہے۔ اس تصدیق کے بعد، وزیراعلیٰ کے دفتر نے فوری طور پر پونے پولیس کو آگاہ کیا، جنہوں نے ایک خفیہ تحقیقات کا آغاز کیا۔

پونے پولیس کی کرائم برانچ نے سینئر افسران کی نگرانی میں کارروائی کرتے ہوئے راہول کرن جکار کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق، ملزم سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرتا تھا اور انتظامی افسران سے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر کام کروانے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کے خلاف دھوکہ دہی، جعل سازی اور شناخت چھپانے کے الزامات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شاید کافی عرصے سے اس دھوکے میں ملوث تھا اور اب تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات اور ان افراد یا محکموں کا پتہ لگایا جا سکے جن سے اس نے اپنی جھوٹی شناخت کے بہانے رابطہ کیا تھا۔ پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی شامل تھا یا وہ اکیلا ہی یہ سب کر رہا تھا۔

اس واقعے نے سرکاری دفاتر میں سیکیورٹی اور تصدیقی عمل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے دفتر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موجودہ طریقہ کار کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ دفتر نے شفافیت اور جوابدہی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے دفتر کے اختیارات یا عہدے کے غلط استعمال کی کسی بھی کوشش کو سختی سے نمٹا جائے گا۔

پونے پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک فرد یا سرگرمی کی اطلاع دیں، خاص طور پر جب اس کا تعلق سرکاری افسران یا دفاتر سے ہو۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کا روپ دھار کر دھوکہ دہی کرنا، خاص طور پر وزیراعلیٰ کے قریبی تعلق رکھنے والے عہدیدار کا، حکمرانی کے خلاف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انتظامی کاموں میں خلل ڈال سکتا ہے۔ حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ایسے دھوکہ دہی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ تمام حکومتی معاملات میں احتیاط اور سخت تصدیقی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہاں کلک کریں

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں